کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نمازِ جنازہ میں کی جانے والی دعا کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا جِيءَ بِالْمَيِّتِ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ اسْتَقْبَلَهُمْ بِوَجْهِهِ قَالَ : إِنَّكُمْ جِئْتُمْ شُفَعَاءَ ، فَاشْفَعُوا لَهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : مِائَةُ رَجُلٍ أُمَّةٌ ، وَلَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّةٌ فَيُخْلِصُونَ الدُّعَاءَ لِمَيِّتِهِمْ إِلَّا وَهَبَ اللهُ لَهُمْ ذُنُوبَهُ ، وَغَفَرَ لَهُمْ .
هَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ لِأَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
857 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
هَذَا حَدِيثٌ مُنْقَطِعٌ لِأَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
857 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب جنازہ ان کے سامنے لایا جاتا اور رکھا جاتا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: ”تم سب یہاں سفارشی بن کر آئے ہو، لہٰذا اس میت کے حق میں سفارش کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”سو آدمیوں کی جماعت ایک پوری امت ہے، اور جب بھی کوئی امت (بڑی جماعت) جمع ہو کر اپنے کسی میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے اس میت کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“ “
یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ عطا خراسانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
ابن ابی عمر نے بھی المقرئ، سعید بن ابی ایوب اور عثمان بن عطا کی سند سے اسی کے مانند روایت بیان کی ہے۔
یہ حدیث منقطع ہے کیونکہ عطا خراسانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
ابن ابی عمر نے بھی المقرئ، سعید بن ابی ایوب اور عثمان بن عطا کی سند سے اسی کے مانند روایت بیان کی ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : قَامَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يُصَلِّي عَلَى جِنَازَةٍ ، فَكَبَّرَ ثُمَّ افْتَتَحَ أُمَّ الْقُرْآنِ رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَبَّرَ فَأَخْلَصَ لِلْمَيِّتِ الدُّعَاءَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي وَاللهِ مَا رَفَعْتُ صَوْتِي بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ .
قُلْتُ : قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ وَقَوْلُهُ إِنَّهَا سُنَّةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ .
قُلْتُ : قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ وَقَوْلُهُ إِنَّهَا سُنَّةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ .
ترجمہ
مطلب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے تکبیر کہی، پھر سورۃ الفاتحہ بلند آواز سے پڑھی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، پھر تکبیر کہہ کر میت کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کی، پھر ایک اور تکبیر کہی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے دعا فرمائی۔ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! اللہ کی قسم! میں نے قراءت میں اپنی آواز صرف اس لیے بلند کی تھی تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔“
میں کہتا ہوں: نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا اور اسے سنت قرار دینا صحیح بخاری میں بھی ثابت ہے۔
میں کہتا ہوں: نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا اور اسے سنت قرار دینا صحیح بخاری میں بھی ثابت ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وَصَلِّ عَلَيْهِ ، وَأَوْرِدْهُ حَوْضَ رَسُولِكَ .
عَاصِمٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ .
عَاصِمٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ .
ترجمہ
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نمازِ جنازہ میں یہ دعا فرماتے ہوئے سنا: ”«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَصَلِّ عَلَيْهِ، وَأَوْرِدْهُ حَوْضَ رَسُولِكَ» اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور اسے اپنے رسول (ﷺ) کے حوضِ کوثر پر پہنچا دے۔“
اس حدیث کی سند میں موجود راوی عاصم بن ہلال کے ثقہ ہونے کے متعلق محدثین کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
اس حدیث کی سند میں موجود راوی عاصم بن ہلال کے ثقہ ہونے کے متعلق محدثین کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ ، خَلَقْتَهُ وَرَزَقْتَهُ ، أَحْيَيْتَهُ وَكَفَيْتَهُ ، اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ .
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم نمازِ جنازہ میں (یہ دعا) پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ ، خَلَقْتَهُ وَرَزَقْتَهُ ، أَحْيَيْتَهُ وَكَفَيْتَهُ ، اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور تو ہی اس (میت) کا بھی رب ہے، تو نے ہی اسے پیدا فرمایا اور اسے رزق سے نوازا، تو نے ہی اسے زندگی عطا کی اور تو ہی اس کی ضروریاتِ زندگی کے لیے کافی ہوا، پس تو ہماری اور اس کی بخشش و مغفرت فرما، ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہی میں مبتلا نہ کرنا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
ترجمہ
ایک اور سند سے یہی روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ قَالَ : اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ... الْحَدِيثَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
وَأَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَبِي يَعْلَى ، لَكِنْ لَهُ عِلَّةٌ .
أَخْرَجَهُ الْبَيْهَقِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مَوْقُوفًا .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
وَأَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَبِي يَعْلَى ، لَكِنْ لَهُ عِلَّةٌ .
أَخْرَجَهُ الْبَيْهَقِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مَوْقُوفًا .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی جنازے کی نماز پڑھتے تو یہ دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ...» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا تھا، وہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں...“ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
اس کی سند صحیح ہے۔ امام ابن حبان نے اسے امام ابو یعلیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں ایک علت ہے۔ امام بیہقی نے اسے ایک دوسری سند سے سعید مقبری، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
اس کی سند صحیح ہے۔ امام ابن حبان نے اسے امام ابو یعلیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں ایک علت ہے۔ امام بیہقی نے اسے ایک دوسری سند سے سعید مقبری، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم سے موقوفاً روایت کیا ہے۔