❮
❯
حدیث نمبر: 858
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : قَامَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يُصَلِّي عَلَى جِنَازَةٍ ، فَكَبَّرَ ثُمَّ افْتَتَحَ أُمَّ الْقُرْآنِ رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَبَّرَ فَأَخْلَصَ لِلْمَيِّتِ الدُّعَاءَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي وَاللهِ مَا رَفَعْتُ صَوْتِي بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ .
قُلْتُ : قِرَاءَةُ الْفَاتِحَةِ وَقَوْلُهُ إِنَّهَا سُنَّةٌ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ .
ترجمہ

مطلب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک جنازے کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے تکبیر کہی، پھر سورۃ الفاتحہ بلند آواز سے پڑھی، اس کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، پھر تکبیر کہہ کر میت کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کی، پھر ایک اور تکبیر کہی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے دعا فرمائی۔ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! اللہ کی قسم! میں نے قراءت میں اپنی آواز صرف اس لیے بلند کی تھی تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔“
میں کہتا ہوں: نمازِ جنازہ میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا اور اسے سنت قرار دینا صحیح بخاری میں بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 858
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح
قال الترمذي : صحيح ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 241) »
«أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1335، وابن الجارود فى "المنتقى"، 584، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3071، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1327، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1986 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3198، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1026، 1027، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1495، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7055، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1819، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2864، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2661، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 858»