المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ باب: نمازِ جنازہ میں کی جانے والی دعا کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ ، خَلَقْتَهُ وَرَزَقْتَهُ ، أَحْيَيْتَهُ وَكَفَيْتَهُ ، اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم نمازِ جنازہ میں (یہ دعا) پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُ ، خَلَقْتَهُ وَرَزَقْتَهُ ، أَحْيَيْتَهُ وَكَفَيْتَهُ ، اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ ، وَلَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور تو ہی اس (میت) کا بھی رب ہے، تو نے ہی اسے پیدا فرمایا اور اسے رزق سے نوازا، تو نے ہی اسے زندگی عطا کی اور تو ہی اس کی ضروریاتِ زندگی کے لیے کافی ہوا، پس تو ہماری اور اس کی بخشش و مغفرت فرما، ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہی میں مبتلا نہ کرنا۔“