قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : لَقِيتُ الْأَسْوَدَ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ أَبَا الْأَحْوَصِ يَزِيدُ عَنْ عَبْدِ اللهِ - فِي التَّشَهُّدِ - الْمُبَارَكَاتِ ، فَقَالَ : ائْتِهِ فَانْهَهُ عَنْ هَذَا ، وَقُلْ لَهُ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ عَلَّمَ عَلْقَمَةَ التَّشَهُّدَ ، فَعَقَدَهُنَّ فِي يَدِهِ .
صَحِيحٌ .
صَحِيحٌ .
ترجمہ
ابواسحاق سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات اسود بن یزید سے ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ بلاشبہ ابوالاحوص، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے تشہد کی روایت میں ”المبارکات“ کے لفظ کا اضافہ کرتے ہیں، اس پر اسود نے کہا: تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں اس اضافے سے روک دو، اور انہیں بتاؤ کہ یقیناً سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو تشہد کے کلمات سکھائے تھے اور (تعداد و الفاظ کی پختگی کے لیے) انہیں اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر شمار کیا تھا۔
یہ حدیث صحیح ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْوِلْدَانَ .
520 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِهِ ، وَزَادَ : عَلَى الْمِنْبَرِ .
520 \ 3 - حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، كَمَا يُعَلَّمُ الْغِلْمَانُ فِي الْمَكْتَبِ .
520 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِهِ ، وَزَادَ : عَلَى الْمِنْبَرِ .
520 \ 3 - حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، كَمَا يُعَلَّمُ الْغِلْمَانُ فِي الْمَكْتَبِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد (التّحیّات) کی تعلیم اس قدر توجہ اور باقاعدگی سے دیتے تھے جیسے کوئی معلم بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے۔“
امام مسدد کی روایت کردہ اسی حدیث میں عبد الواحد نے عبد الرحمن بن اسحاق کے واسطے سے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ یہ تعلیم ”منبر پر“ تشریف فرما ہو کر دیا کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیں منبر پر تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح بچوں کو مکتب (مدرسے) میں تعلیم دی جاتی ہے۔“
امام مسدد کی روایت کردہ اسی حدیث میں عبد الواحد نے عبد الرحمن بن اسحاق کے واسطے سے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ یہ تعلیم ”منبر پر“ تشریف فرما ہو کر دیا کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیں منبر پر تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح بچوں کو مکتب (مدرسے) میں تعلیم دی جاتی ہے۔“
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ ، وَجَوَامِعَهُ ، وَخَوَاتِمَهُ فَقُلْنَا : عَلِّمْنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ تَعَالَى ، فَعَلَّمَنَا التَّشَهُّدَ .
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے کلام کے فصیح و بلیغ آغاز، ان کے نہایت جامع و پُرمغز کلمات اور ان کے بہترین اختتام عطا کیے گئے ہیں۔“ ہم نے عرض کی: ”ہمیں بھی اس علم میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ہمیں تشہد سکھایا۔
اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم تشہد کی تعلیم سے متعلق دیگر صحیح احادیث مروی ہیں۔
اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم تشہد کی تعلیم سے متعلق دیگر صحیح احادیث مروی ہیں۔
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اخْتُلِفَ عَلَيْنَا فِي التَّشَهُّدِ ! فَقَالَ فُلَانٌ : كَذَا ، وَقَالَ فُلَانٌ : كَذَا ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ التَّشَهُّدُ تَشَهُّدُ ابْنِ مَسْعُودٍ .
وَأَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مُخْتَصَرًا .
وَأَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مُخْتَصَرًا .
ترجمہ
خصیف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خواب میں زیارت کی، تو میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان تشہد (نماز میں التحیات پڑھنے) کے متعلق اختلاف ہو گیا ہے؛ چنانچہ فلاں شخص اس طرح کہتا ہے اور فلاں شخص اس طرح کہتا ہے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرح پڑھتے ہیں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ابنِ مسعود (رضی اللہ عنہ) کا تشہد کتنا ہی عمدہ اور بہترین تشہد ہے۔“
اور امام ترمذی نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔
اور امام ترمذی نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَزِيدُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى التَّشَهُّدِ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”بے شک رسول اللہ ﷺ (نماز کی ابتدائی) دو رکعتوں (کے بعد قعدہ اولیٰ) میں تشہد پر کسی کلمے کا اضافہ نہیں فرماتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔