المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الدُّعَاءِ فِي التَّشَهُّدِ باب: تشہد میں دعا مانگنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَبَابٌ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ ، ثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى يُشِيرُ بِالسَّبَّابَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكِ .سیدنا عاصم بن کلیب اپنے والد (کلیب بن شہاب) کے واسطے سے اپنے دادا (سیدنا شہاب بن مجنون رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نماز کی حالت میں (تشہد میں) تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور آپ ﷺ اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ فرما رہے تھے، اور آپ ﷺ زبانِ مبارک سے یہ التجا فرما رہے تھے: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» ”اے دلوں کو الٹنے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت صحیح اور مستند ہے۔