المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ التَّشَهُّدِ باب: تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 522
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، اخْتُلِفَ عَلَيْنَا فِي التَّشَهُّدِ ! فَقَالَ فُلَانٌ : كَذَا ، وَقَالَ فُلَانٌ : كَذَا ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نِعْمَ التَّشَهُّدُ تَشَهُّدُ ابْنِ مَسْعُودٍ .
وَأَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مُخْتَصَرًا .ترجمہ
خصیف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خواب میں زیارت کی، تو میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان تشہد (نماز میں التحیات پڑھنے) کے متعلق اختلاف ہو گیا ہے؛ چنانچہ فلاں شخص اس طرح کہتا ہے اور فلاں شخص اس طرح کہتا ہے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرح پڑھتے ہیں۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ابنِ مسعود (رضی اللہ عنہ) کا تشہد کتنا ہی عمدہ اور بہترین تشہد ہے۔“
اور امام ترمذی نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔