❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : اهْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَذَانِ لِلصَّلَاةِ ، وَكَرِهَ أَنْ يَنْقُسَ كَمَا تَصْنَعُ أَهْلُ مَكَّةَ ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ رِجَالًا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَيَشْغَلُهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ ، وَرَجَعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُهْتَمًّا بِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِيَ فِي النَّوْمِ ، وَقِيلَ : لِأَيِّ شَيْءٍ اهْتَمَمْتَ ؟ قَالَ : لِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الَّذِي أَتَاهُ : ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمُرْهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ : اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، مَرَّتَيْنِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، مَرَّتَيْنِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اجْعَلْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأَتَى عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمْهَا بِلَالًا "
وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ ، وَلَكِنَّ عَبْدَ اللهِ سَبَقَنِي
هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمُخَرَّجِ فِي السُّنَنِ .
ترجمہ
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے پکار (اذان) کے معاملے میں نہایت فکر مند تھے، اور آپ ﷺ نے ناقوس بجانے کو ناپسند فرمایا جیسا کہ اہل مکہ کرتے تھے، چنانچہ جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ ﷺ چند آدمیوں کو بھیجتے جو لوگوں کو پکار کر اطلاع دیتے، لیکن یہ عمل انہیں خود نماز سے مشغول (اور دور) کر دیتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی اس فکر مندی کا اثر لیے ہوئے واپس ہوئے، تو انہیں خواب میں ایک آنے والے نے آ کر پوچھا: ”تم کس وجہ سے فکر مند ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی کی وجہ سے۔“ اس آنے والے نے کہا: ”نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور انہیں کہیں کہ وہ نماز کے لیے ان کلمات کے ساتھ اذان دلوائیں: «اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ (مرتين) ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ (مرتين) ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ (مرتين) ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ (مرتين) ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں (دو مرتبہ)، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں (دو مرتبہ)۔ آؤ نماز کی طرف (دو مرتبہ)، آؤ کامیابی کی طرف (دو مرتبہ)۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔ پھر اس نے ان سے کہا کہ اذان اور اقامت کے درمیان بھی اسی طرح کے کلمات رکھیں۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کلمات بلال کو سکھا دو۔“
اتنے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض گزار ہوئے: ”میں نے بھی بعینہ وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا، لیکن عبداللہ نے مجھ سے پہل کر لی۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، اور یہ سنن میں منقول ابن اسحاق کی حدیث کے لیے بہترین شاہد و تائید ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 224
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمُخَرَّجِ فِي السُّنَنِ . »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 224، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 19»
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَذَّنَ الظُّهْرَ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَبَا مَحْذُورَةَ ، أَمَا خِفْتَ أَنْ تَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَإِنَّ الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَإِنَّ جَهَنَّمَ تَحَاجَّتْ حَتَّى أَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَاسْتَأْذَنَتِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي نَفَسَيْنِ فَأَذِنَ لَهَا ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَشِدَّةُ الزَّمْهَرِيرِ مِنْ بَرْدِهَا . "
225 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ بِهَذَا وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ مَرْفُوعًا عَنْ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی اذان دی جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ میں مقیم تھے، اور انہوں نے سورج ڈھلتے ہی اپنی آواز کو نہایت بلند کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ازراہِ شفقت) فرمایا: ”اے ابومحذورہ! کیا تمہیں یہ اندیشہ نہیں ہوا کہ (اتنے زور سے پکارنے پر) تمہارے پیٹ کی نازک جھلی پھٹ جائے گی؟“ انہوں نے جواباً عرض کیا: ”(اے امیر المؤمنین!) میں نے چاہا کہ آپ کو اپنی آواز سناؤں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں (تاخیر سے) ادا کیا کرو، کیونکہ تپش کی یہ شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے، اور جہنم نے (اپنے رب کے حضور) شکایت کی تھی یہاں تک کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھانے لگا، تو اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دو سانس لینے کی اجازت طلب کی جو اسے دے دی گئی، پس گرمی کی شدت جہنم کی تپش کی وجہ سے ہے اور سخت سردی کی لہر اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہے۔“
اسے امام بزار نے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں فضل بن سہل اور احمد بن ولید نے محمد بن حسن مخزومی کے واسطے سے یہی روایت بیان کی ہے، نیز انہوں نے کہا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ روایت صرف اسی سند سے معلوم ہے، جبکہ محمد بن حسن ”منکر الحدیث“ ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 225
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدا
قال الهيثمي: فيه محمد بن الحسن بن زبالة نسب إلى وضع الحديث ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 146) »
«أخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 280، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،225،»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ فِي السَّمَاءِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ " فَسَمِعَهُ عُمَرُ ، وَبِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكَ عُمَرُ يَا بِلَالُ ، أَذِّنْ كَمَا سَمِعْتَ "
قَالَ : ثُمَّ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ اسْتِعَانَةً بِهَا عَلَى الصَّوْتِ " .
ترجمہ
سیدنا کثیر بن مرہ حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آسمان میں سب سے پہلے جس ہستی نے اذان دی وہ جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ پس اس اذان کو سیدنا عمر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے سنا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور جو کچھ انہوں نے سنا تھا اس کے متعلق نبی کریم ﷺ کو خبر دی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی جو سنا تھا اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو آگاہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! عمر تم سے سبقت لے گئے ہیں، اب تم ویسے ہی اذان دو جیسے تم نے سنا ہے۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں تاکہ اس عمل کے ذریعے آواز کو زیادہ بلند کرنے میں مدد حاصل کی جا سکے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ : إسناده ضعيف
سند واه ، شرح الزرقاني على الموطأ: (1 / 259) »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»