المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَذَانِ باب: اذان کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَذَّنَ الظُّهْرَ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَبَا مَحْذُورَةَ ، أَمَا خِفْتَ أَنْ تَنْشَقَّ مُرَيْطَاؤُكَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَحْبَبْتُ أَنْ أُسْمِعَكَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَإِنَّ الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَإِنَّ جَهَنَّمَ تَحَاجَّتْ حَتَّى أَكَلَ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَاسْتَأْذَنَتِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي نَفَسَيْنِ فَأَذِنَ لَهَا ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، وَشِدَّةُ الزَّمْهَرِيرِ مِنْ بَرْدِهَا . "
225 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ بِهَذَا وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ مَرْفُوعًا عَنْ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی اذان دی جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مکہ میں مقیم تھے، اور انہوں نے سورج ڈھلتے ہی اپنی آواز کو نہایت بلند کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ازراہِ شفقت) فرمایا: ”اے ابومحذورہ! کیا تمہیں یہ اندیشہ نہیں ہوا کہ (اتنے زور سے پکارنے پر) تمہارے پیٹ کی نازک جھلی پھٹ جائے گی؟“ انہوں نے جواباً عرض کیا: ”(اے امیر المؤمنین!) میں نے چاہا کہ آپ کو اپنی آواز سناؤں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب گرمی کی شدت بڑھ جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں (تاخیر سے) ادا کیا کرو، کیونکہ تپش کی یہ شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے، اور جہنم نے (اپنے رب کے حضور) شکایت کی تھی یہاں تک کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھانے لگا، تو اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دو سانس لینے کی اجازت طلب کی جو اسے دے دی گئی، پس گرمی کی شدت جہنم کی تپش کی وجہ سے ہے اور سخت سردی کی لہر اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے ہے۔“
اسے امام بزار نے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں فضل بن سہل اور احمد بن ولید نے محمد بن حسن مخزومی کے واسطے سے یہی روایت بیان کی ہے، نیز انہوں نے کہا کہ ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ روایت صرف اسی سند سے معلوم ہے، جبکہ محمد بن حسن ”منکر الحدیث“ ہے۔