المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَذَانِ باب: اذان کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ فِي السَّمَاءِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ " فَسَمِعَهُ عُمَرُ ، وَبِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَكَ عُمَرُ يَا بِلَالُ ، أَذِّنْ كَمَا سَمِعْتَ "
قَالَ : ثُمَّ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ اسْتِعَانَةً بِهَا عَلَى الصَّوْتِ " .سیدنا کثیر بن مرہ حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آسمان میں سب سے پہلے جس ہستی نے اذان دی وہ جبرائیل علیہ السلام ہیں۔“ پس اس اذان کو سیدنا عمر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے سنا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور جو کچھ انہوں نے سنا تھا اس کے متعلق نبی کریم ﷺ کو خبر دی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی جو سنا تھا اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو آگاہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! عمر تم سے سبقت لے گئے ہیں، اب تم ویسے ہی اذان دو جیسے تم نے سنا ہے۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھیں تاکہ اس عمل کے ذریعے آواز کو زیادہ بلند کرنے میں مدد حاصل کی جا سکے۔