المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مُؤَذِّنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے مؤذن کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ ، أَحَدُهُمَا بِلَالٌ ، وَالْآخَرُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْأَصَمِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
227 \ 2 - قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، ثَنَا الْحَارِثُ بِهِ .
[3] رَوَاهُ أَبُو قُرَّةَ الزُّبَيْدِيُّ فِي سُنَنِهِ مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ بِهِ سَوَاءً ، وَزَادَ : وَكَانَ بِلَالٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ يُوقِظُ النَّائِمَ ، وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَتَوَخَّى الْفَجْرَ فَلَا يُخْطِئُهُ ، وَكَأَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ الْأَصَمِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى هَذَا هُوَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، وَاللهُ أَعْلَمُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کے دو مؤذن تھے، ان میں سے ایک سیدنا بلال اور دوسرے سیدنا عبدالعزیز بن اصم رضی اللہ عنہما تھے۔“
امام ابونعیم نے فرمایا کہ ہمیں ابوبکر بن خلاد نے، انہوں نے حارث سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔
نیز اسے ابو قرہ زبیدی نے اپنی سنن میں موسیٰ بن عبیدہ کے واسطے سے اسی کے مثل روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: ”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے تھے تاکہ سونے والے کو بیدار کریں، جبکہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ طلوعِ فجر کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان سے وقت کی پہچان میں چوک نہیں ہوتی تھی،“ اور بظاہر اس قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مذکور عبدالعزیز بن اصم رضی اللہ عنہ دراصل سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ہی ہیں، واللہ اعلم۔