❮
❯
حدیث نمبر: 224
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : اهْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَذَانِ لِلصَّلَاةِ ، وَكَرِهَ أَنْ يَنْقُسَ كَمَا تَصْنَعُ أَهْلُ مَكَّةَ ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ رِجَالًا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَيَشْغَلُهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ ، وَرَجَعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُهْتَمًّا بِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِيَ فِي النَّوْمِ ، وَقِيلَ : لِأَيِّ شَيْءٍ اهْتَمَمْتَ ؟ قَالَ : لِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الَّذِي أَتَاهُ : ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمُرْهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ : اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، مَرَّتَيْنِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، مَرَّتَيْنِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اجْعَلْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأَتَى عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلِّمْهَا بِلَالًا "
وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ ، وَلَكِنَّ عَبْدَ اللهِ سَبَقَنِي
هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمُخَرَّجِ فِي السُّنَنِ .
ترجمہ

امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے پکار (اذان) کے معاملے میں نہایت فکر مند تھے، اور آپ ﷺ نے ناقوس بجانے کو ناپسند فرمایا جیسا کہ اہل مکہ کرتے تھے، چنانچہ جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ ﷺ چند آدمیوں کو بھیجتے جو لوگوں کو پکار کر اطلاع دیتے، لیکن یہ عمل انہیں خود نماز سے مشغول (اور دور) کر دیتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی اس فکر مندی کا اثر لیے ہوئے واپس ہوئے، تو انہیں خواب میں ایک آنے والے نے آ کر پوچھا: ”تم کس وجہ سے فکر مند ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”رسول اللہ ﷺ کی فکر مندی کی وجہ سے۔“ اس آنے والے نے کہا: ”نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور انہیں کہیں کہ وہ نماز کے لیے ان کلمات کے ساتھ اذان دلوائیں: «اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ (مرتين) ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ (مرتين) ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ (مرتين) ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ (مرتين) ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں (دو مرتبہ)، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں (دو مرتبہ)۔ آؤ نماز کی طرف (دو مرتبہ)، آؤ کامیابی کی طرف (دو مرتبہ)۔ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“۔ پھر اس نے ان سے کہا کہ اذان اور اقامت کے درمیان بھی اسی طرح کے کلمات رکھیں۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کلمات بلال کو سکھا دو۔“
اتنے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور عرض گزار ہوئے: ”میں نے بھی بعینہ وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا، لیکن عبداللہ نے مجھ سے پہل کر لی۔“
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، اور یہ سنن میں منقول ابن اسحاق کی حدیث کے لیے بہترین شاہد و تائید ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 224
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَهُوَ شَاهِدٌ جَيِّدٌ لِحَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمُخَرَّجِ فِي السُّنَنِ . »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 224، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 19»