کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: انگلیوں اور داڑھی میں خلال کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ " . قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ ؟ قَالَ : " التَّخَلُّلُ مِنَ الْوُضُوءِ أَنْ تُخَلِّلَ بَيْنَ أَصَابِعِكَ وَأَظْفَارِكَ ، وَالتَّخَلُّلُ مِنَ الطَّعَامِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَى الْمَلَكِ الَّذِي مَعَ الْعَبْدِ مِنْ أَنْ يَجِدَ مِنْ أَحَدِكُمْ رِيحَ الطَّعَامِ " .
أَبُو سَوْرَةَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ أَصْلَهُ .
أَبُو سَوْرَةَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ أَصْلَهُ .
ترجمہ
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”خلال کرنے والے (صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنے والے) کیا ہی اچھے لوگ ہیں!“ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ خلال کرنے والے کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو میں خلال کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم اپنی انگلیوں کے درمیانی حصوں اور ناخنوں کی جڑوں کو اچھی طرح صاف کرو، اور کھانے کے بعد خلال کرنے سے مراد (دانتوں میں پھنسے ذرات نکالنا) ہے، کیونکہ اس فرشتے کے لیے جو بندے کے ساتھ ہمہ وقت رہتا ہے، اس سے زیادہ تکلیف دہ اور گراں کوئی چیز نہیں کہ وہ تم میں سے کسی کے منہ سے کھانے کے (بچے ہوئے ذرات کی وجہ سے پیدا ہونے والی) بو محسوس کرے۔“
اس کی سند میں موجود راوی ابو سورہ ضعیف ہے، تاہم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کی اصل روایت تخریج کی ہے۔
اس کی سند میں موجود راوی ابو سورہ ضعیف ہے، تاہم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کی اصل روایت تخریج کی ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ بِأَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أُخَلِّلَ " .
ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو اپنی انگلیوں کے ذریعے اپنی داڑھی کا خلال کیا (یعنی اپنی انگلیاں داڑھی کے بالوں میں پھیریں)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے رب عزوجل نے مجھے اسی طرح خلال کرنے کا حکم دیا ہے“۔
اس روایت کی سند میں محمد بن جابر الیمامی ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر صحیح اور مستند احادیث سے وضو میں داڑھی کا خلال کرنا ثابت ہے۔
اس روایت کی سند میں محمد بن جابر الیمامی ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر صحیح اور مستند احادیث سے وضو میں داڑھی کا خلال کرنا ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي وَاقِدٌ ، عَنْ مُصْعَبٍ قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَوْمًا يَتَوَضَّؤُونَ فَقَالَ : " خَلِّلُوا " ، يَعْنِي بَيْنَ الْأَصَابِعِ .
ترجمہ
سیدنا مصعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں (وضو کے آداب سکھاتے ہوئے) فرمایا: ”تم خلال کیا کرو“، آپ کی مراد انگلیوں کے درمیانی حصوں میں پانی پہنچانے کے لیے خلال کرنا تھا۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (حدیث: 106) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (حدیث: 106) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : ثَنَا مَسْرُوقٌ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ : تَوَضَّأَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ " .
ترجمہ
شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
مسند ابویعلیٰ: 93، اس کی سند حسن ہے۔
مسند ابویعلیٰ: 93، اس کی سند حسن ہے۔