❮
❯
حدیث نمبر: 90
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ " . قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ ؟ قَالَ : " التَّخَلُّلُ مِنَ الْوُضُوءِ أَنْ تُخَلِّلَ بَيْنَ أَصَابِعِكَ وَأَظْفَارِكَ ، وَالتَّخَلُّلُ مِنَ الطَّعَامِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَى الْمَلَكِ الَّذِي مَعَ الْعَبْدِ مِنْ أَنْ يَجِدَ مِنْ أَحَدِكُمْ رِيحَ الطَّعَامِ " .
أَبُو سَوْرَةَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ أَصْلَهُ .
ترجمہ

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”خلال کرنے والے (صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنے والے) کیا ہی اچھے لوگ ہیں!“ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ خلال کرنے والے کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو میں خلال کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم اپنی انگلیوں کے درمیانی حصوں اور ناخنوں کی جڑوں کو اچھی طرح صاف کرو، اور کھانے کے بعد خلال کرنے سے مراد (دانتوں میں پھنسے ذرات نکالنا) ہے، کیونکہ اس فرشتے کے لیے جو بندے کے ساتھ ہمہ وقت رہتا ہے، اس سے زیادہ تکلیف دہ اور گراں کوئی چیز نہیں کہ وہ تم میں سے کسی کے منہ سے کھانے کے (بچے ہوئے ذرات کی وجہ سے پیدا ہونے والی) بو محسوس کرے۔“
اس کی سند میں موجود راوی ابو سورہ ضعیف ہے، تاہم امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس حدیث کی اصل روایت تخریج کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 90
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَبُو سَوْرَةَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ أَصْلَهُ . »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 23016، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4061، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7950، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 574/1»