❮
❯
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي وَاقِدٌ ، عَنْ مُصْعَبٍ قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَوْمًا يَتَوَضَّؤُونَ فَقَالَ : " خَلِّلُوا " ، يَعْنِي بَيْنَ الْأَصَابِعِ .
ترجمہ

سیدنا مصعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں (وضو کے آداب سکھاتے ہوئے) فرمایا: ”تم خلال کیا کرو“، آپ کی مراد انگلیوں کے درمیانی حصوں میں پانی پہنچانے کے لیے خلال کرنا تھا۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (حدیث: 106) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 92
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده حسن. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 92، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 74، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 90، 92»