المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ وَاللِّحْيَةِ باب: انگلیوں اور داڑھی میں خلال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي وَاقِدٌ ، عَنْ مُصْعَبٍ قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَوْمًا يَتَوَضَّؤُونَ فَقَالَ : " خَلِّلُوا " ، يَعْنِي بَيْنَ الْأَصَابِعِ .ترجمہ
سیدنا مصعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں (وضو کے آداب سکھاتے ہوئے) فرمایا: ”تم خلال کیا کرو“، آپ کی مراد انگلیوں کے درمیانی حصوں میں پانی پہنچانے کے لیے خلال کرنا تھا۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف (حدیث: 106) میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔