عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مِائَةً أَوْ يَزِيدُونَ ، وَفِيهِ رَجُلٌ مِنَ النَّارِ فَتَنَفَّسَ فَأَصَابَ نَفَسُهُ لَاحْتَرَقَ الْمَسْجِدُ وَمَنْ فِيهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ : إِسْحَاقَ وَلَمْ يَنْسِبْهُ . فَإِنْ كَانَ ابْنَ رَاهَوَيْهِ فَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر اس مسجد میں ایک سو ، یا اس سے زیادہ افراد موجود ہوں اور اس میں ایک جہنمی شخص موجود ہو اور وہ سانس لے ، تو اس کی سانس کی وجہ سے مسجد اور اس میں موجود سب لوگ جل جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، اگر تو وہ اسحاق بن راہویہ ہے ، تو پھر اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، اگر تو وہ اسحاق بن راہویہ ہے ، تو پھر اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ مِائَةُ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ، ثُمَّ تَنَفَّسَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَأَحْرَقَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا حَدَّثَ مِنْ كِتَابِهِ ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ مِنْ حِفْظِهِ بَعْضَ مَنَاكِيرَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر مسجد میں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد موجود ہوں اور پھر اہل جہنم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص وہاں سانس لے ، تو ان سب کو جلا دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن ہارون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب وہ اپنی تحریر کے حوالے سے روایت نقل کرے گا کیونکہ یادداشت کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہوئے اس میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن ہارون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب وہ اپنی تحریر کے حوالے سے روایت نقل کرے گا کیونکہ یادداشت کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہوئے اس میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔