مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي نَفَسِ أَهْلِ النَّارِ . باب: اہل جہنم کی سانس کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ مِائَةُ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ، ثُمَّ تَنَفَّسَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَأَحْرَقَهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا حَدَّثَ مِنْ كِتَابِهِ ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ مِنْ حِفْظِهِ بَعْضَ مَنَاكِيرَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر مسجد میں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد موجود ہوں اور پھر اہل جہنم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص وہاں سانس لے ، تو ان سب کو جلا دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن ہارون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب وہ اپنی تحریر کے حوالے سے روایت نقل کرے گا کیونکہ یادداشت کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہوئے اس میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔