کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : اسْتُشْهِدَ رَجُلٌ مِنَّا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَوُجِدَ عَلَى بَطْنِهِ صَخْرَةٌ مَرْبُوطَةٌ مِنَ الْجُوعِ ، فَمَسَحَتْ أُمُّهُ التُّرَابَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَتْ : هَنِيئًا لَكَ يَا بُنَيَّ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ لَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ ، وَيَمْنَعُ مَا لَا يَضُرُّهُ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر ہم میں سے ایک شخص نے جام شہادت نوش کیا ، اس کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا پایا گیا ، جو بھوک کی وجہ سے باندھا گیا تھا ، اس کی ماں نے اس کے چہرے سے مٹی پونچھتے ہوئے یہ کہا: اے میرے بیٹے ! تمہیں جنت مبارک ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کیسے پتا چلا ؟ ہو سکتا ہے یہ گفتگو کرتے ہوئے لایعنی گفتگو کرتا ہو اور ایسی چیز نہ دیتا ہو ( جس کو دے دینے سے ) اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أُنْذِرُكُمْ فُضُولَ الْكَلَامِ بِحَسْبِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَبْلُغَ حَاجَتَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں تمہیں فضول گفتگو کرنے سے ڈراتا ہوں ، تم میں سے کسی ایک کے لئے اتنا کلام کر لینا کافی ہے ، جو اس کی حاجت کو بیان کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
وَعَنْهُ قَالَ : أَكْثَرُ النَّاسِ خَطَايَا يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ خَوْضًا فِي الْبَاطِلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” قیامت کے دن لوگوں میں سے زیادہ گناہ اُس کے ہوں گے جو باطل کے بارے میں زیادہ غور و خوض ( یعنی گفتگو ) کرتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْهُ قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَحْوَجُ إِلَى طُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، روئے زمین پر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو زبان سے زیادہ طویل قید کی محتاج ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا بِحِفْظِ فُرُوجِنَا وَأَلْسِنَتِنَا ، وَقَالَ : " إِنَّهُمَا يُورِدَانِكُنَّ وَلَا يُصْدِرَانِكُنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم اپنی شرمگاہوں اور اپنی زبانوں کی حفاظت کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ” یہ دونوں تم خواتین کو ( جہنم کی طرف ) لے جائیں گے ، وہاں سے واپس نہیں لائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : إِيَّاكُمْ وَصِعَابَ الْقَوْلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَعَوْنٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” مشکل باتیں کرنے سے بچو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔