کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خاموش رہنے اور زبان کی حفاظت کرنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 18141
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سماک بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتے رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طویل خاموشی ( اختیار کیے رکھتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18141
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (86/5)»
حدیث نمبر: 18142
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْلَمَ فَلْيَلْزَمِ الصَّمْتَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ سلامت رہے ، اُسے خاموشی کو لازمی اختیار کرنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18142
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3607) أخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1955)»
حدیث نمبر: 18143
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللَّهِ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ عُذْرَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرے گا ، جو شخص اپنے غصے پر ق ابوپائے گا ، اللہ تعالیٰ اُس سے اپنا عذاب روک لے گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معذرت پیش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُس کی معذرت قبول کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سلیمان ازدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4338)»
حدیث نمبر: 18144
وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تُخْبِرُنَا بِهِمَا ؟ ثُمَّ قَالَ : " اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ حَبَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : تَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ أَنْ يُبَشِّرَنَا فَتَمْنَعُهُ ؟ فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ . قَالَ : " ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا تَمِيمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
تمیم بن یزید ، جو بنوزمعہ کے غلام ہیں ، وہ ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! دو چیزیں ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کے شر سے بچا لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ہمیں اُن دونوں کے بارے میں بتائیں گے نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ ارشاد فرمایا : دو چیزیں ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے شر سے بچا لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا راوی بیان کرتے ہیں : جب تیسری مرتبہ یہی مکالمہ ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان صاحب کو روک دیا اور یہ کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی خوشخبری سنانا چاہ رہے ہیں اور تم انہیں روک رہے ہو ، اس شخص نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ اس پر تکیہ نہ کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو چیزیں ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے شر سے بچا لیا وہ جنت میں جائے گا ، وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) اور وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی شرمگاہ ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف تمیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (362/5)»
حدیث نمبر: 18145
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ ; دَخَلَ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَفِي رِجَالِ أَحْمَدَ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَالظَّاهِرُ أَنَّ الرَّاوِيَ الَّذِي سَقَطَ عَنْهُ أَحْمَدُ : هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز ( یعنی زبان ) اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، طبرانی اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ، أحمد کے رجال میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ امام أحمد نے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا ، وہ سلیمان بن یسار ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7275) اخرجه احمد فى المسند (398/4)»
حدیث نمبر: 18146
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُحَدِّثُكَ ثِنْتَيْنِ مَنْ فَعَلَهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " يَحْفَظُ الرَّجُلُ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ " . قَالَ : فَرَجَعْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَقُلْنَا : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَشَدِيدٌ ، كَيْفَ يَسْتَطِيعُ الْمَرْءُ أَنْ يَحْفَظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ فَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِخَيْرٍ ؟ قَالَ : فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ ذَكَرْتَ خَصْلَتَيْنِ شَدِيدَتَيْنِ ، وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْلِكَ لِسَانَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَسِتٌّ مَنْ فَعَلَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قُلْنَا : وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : " مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَا يَزْنِي ، وَلَا يَأْتِي بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِيهِ " . فَأَتَمَّ الْآيَةَ كُلَّهَا فَكَانَتْ هَذِهِ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں دو ایسی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جو شخص انہیں کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اُس چیز کی حفاظت کرے ، جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) اور اُس کی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی شرمگاہ ) ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں اور میرا ساتھی واپس آئے ، ہم نے سوچا ، اللہ کی قسم ! یہ تو بہت مشکل ہے ، آدمی اس بات کی کیسے استطاعت رکھتا ہے کہ وہ دونوں جبڑوں کے درمیان موجود چیز کی حفاظت کرے اور صرف بھلائی کے بارے میں کلام کرے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے دو ایسے امور ذکر کئے ہیں ، جو بہت مشکل ہیں یا رسول اللہ ! کون اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ اپنی زبان پر ق ابورکھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھ کام ایسے ہیں ، جو شخص انہیں کر لے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، ہم نے دریافت کیا : وہ کون سے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے ، وہ زنا نہ کرے ، وہ جھوٹا الزام نہ لگائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کو مکمل تلاوت کیا ( راوی کہتے ہیں : ) تو یہ حکم پہلے والے سے بھی زیادہ مشکل تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 18147
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ غِلْمَانٌ ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا كَانَ أَطْوَلَ صَمْتًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ أَصْحَابُهُ فَأَكْثَرُوا الْكَلَامَ تَبَسَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعِجْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے رہتے تھے ، ہم سب نوجوان تھے میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خاموش رہتا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب گفتگو کرتے ہوئے جب زیادہ گفتگو کرتے تھے تو آپ مسکرا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ذکریا عجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8198)»
حدیث نمبر: 18148
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ هُشَامٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " امْلِكْ هَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَأَحَدُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر ق ابورکھو ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1936) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3349)»
حدیث نمبر: 18149
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَارَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَصْحَابِهِ مَعَهُمْ لَمْ يَتَقَدَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ يَوْمَنَا قَبْلَ يَوْمِكَ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ شَيْءٌ وَلَا يُرِينَا اللَّهُ ذَلِكَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ نَعْمَلُهَا بَعْدَكَ ؟ فَصَمَتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " نِعْمَ الشَّيْءُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ : الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " نِعْمَ الشَّيْءُ الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ، وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ " . فَذَكَرَ مُعَاذٌ كُلَّ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فِيهِ قَالَ : " الصَّمْتُ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " . قَالَ : وَهَلْ نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمَتْ أَلْسِنَتُنَا ؟ ! فَضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَخِذِ مُعَاذٍ ثُمَّ قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! " وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ " وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ إِلَّا مَا نَطَقَتْ بِهِ أَلْسِنَتُهُمْ ؟ ! فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ ، قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا ، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ اپنی سواری پر چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ کے ہمراہ آپ کے اصحاب تھے ، ان میں سے کوئی ایک بھی آپ سے آگے نہیں ہوتا تھا ، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارا ( مرنے کا مخصوص ) دن ، آپ کے دن سے پہلے کر دے ، لیکن اگر کچھ ہو گیا ، ویسے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن نہ دکھائے ، تو آپ کے بعد ہم کون سے اعمال پر عمل پیرا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، انہوں نے دریافت کیا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اچھی چیز ہے ، لیکن تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا ؟ آپ نے فرمایا : روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا بھی اچھی چیز ہے لیکن تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ہر اس بھلائی کا ذکر کیا جس کا وہ علم رکھتے تھے اور ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے : تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ( اس سے مراد کیا ہے ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : خاموش رہنا ، البتہ بھلائی ( کے بارے میں بات کرنے ) کا حکم مختلف ہے ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ہماری زبانیں جو کلام کرتی ہیں ، کیا ان کے حوالے سے ہمارا مواخذہ کیا جائے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے زانوں پر ہاتھ مارا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں تمہیں روئے ۔ “ اور جو بھی اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے فرمایا ، اور پھر یہ فرمایا : ” لوگوں کو جہنم میں اُن کے نتھنوں کے بل اوندھا کر کے صرف اس وجہ سے ڈالا جائے گا ، جو اُن کی زبانوں نے گفتگو کی ہو گی ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا برائی کے حوالے سے خاموش رہے ، تم لوگ بھلائی کی بات کرو ، تم غنیمت حاصل کرو گے اور برائی کے حوالے سے خاموش رہو ، تم سلامت رہو گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن مالک جنبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 18150
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَيَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلْيَسَعْهُ بَيْتُهُ ، وَلْيَبْكِ عَلَى خَطِيئَتِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَيَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا لِيَغْنَمَ ، أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ فَيَسْلَمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو اس کا گھر اس کے لئے گنجائش والا ہونا چاہیے ( یعنی اُس کو زیادہ تر اپنے گھر میں رہنا چاہیے ) اور اُسے اپنے گناہوں پر رونا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اُسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے تاکہ وہ غنیمت حاصل کرے ، یا برائی کے حوالے سے خاموش رہنا چاہیے تاکہ وہ سلامت رہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7706)»
حدیث نمبر: 18151
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى ذِكْرِ خَطِيئَتِكَ ، وَامَلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش والا ہونا چاہیے ، تم اپنے گناہوں کو یاد کر کے روؤ اور اپنی زبان پر ق ابورکھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10353)»
حدیث نمبر: 18152
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طُوبَى لِمَنْ مَلَكَ لِسَانَهُ ، وَوُسِعَهُ بَيْتُهُ ، وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس شخص کے لئے مبارکباد ہے جو اپنی زبان پر ق ابورکھے ، اس کا گھر اس کے لئے گنجائش والا ہو اور وہ اپنے گناہوں پر روئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18152
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (212)»
حدیث نمبر: 18153
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ : أَوْصَى ابْنُ مَسْعُودٍ أَبَا عُبَيْدَةَ ابْنَهُ بِثَلَاثِ كَلِمَاتٍ : أَيْ بُنَيَّ ، أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ وَامْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : حَدَّثَنِي آلُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَوْصَى ابْنَهُ . ¤
محمد محی الدین
اسماعیل بن ابوخالد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے ابوعبیدہ کو تین باتوں کی وصیت کی تھی : ” اے میرے بیٹے ! میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش والا ہونا چاہیے اور تم اپنے گناہوں پر رونا اور اپنی زبان کو روکے رکھنا ( یعنی اس کو ق ابومیں رکھنا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن عمر کا معاملہ مختلف ہے ، وہ کہتے ہیں : آل عبداللہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو یہ وصیت کی تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18153
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8536)»
حدیث نمبر: 18154
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ ارْتَقَى الصَّفَا ، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ : يَالِسَانِ قُلْ خَيْرًا تَغْنَمْ ، وَاسْكُتْ عَنْ شَرٍّ تَسْلَمْ ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ . ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَكْثَرُ خَطَايَ ابْنِ آدَمَ ، فِي لِسَانِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ صفا پہاڑ پر چڑھے ، پھر انہوں نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا : اے زبان ! تم بھلائی کی بات کرو ، تم غنیمت حاصل کر لو گی ، اور تم برائی کے حوالے سے خاموش رہو تم سلامت رہو گی ، اس سے پہلے کہ تم ندامت کا شکار ہو ، اس سے پہلے کہ تم ندامت کا شکار ہو ۔ “ پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ابن آدم کی زیادہ تر خطائیں اُس کی زبان کے حوالے سے ہوتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10446)»
حدیث نمبر: 18155
وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " تَمْلِكُ يَدَكَ ؟ " . قُلْتُ : فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي ؟ قَالَ : " تَمْلِكُ لِسَانَكَ ؟ " . قُلْتُ : فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي ؟ قَالَ : " لَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ ، وَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ ( یعنی کیا وہ تمہارے ق ابومیں ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ پر ق ابونہیں رکھوں گا ، تو کس پر ق ابورکھوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہیں اپنی زبان پر ق ابوہے ؟ میں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان پر ق ابونہیں رکھوں گا تو کس پر ق ابورکھوں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنا ہاتھ صرف بھلائی کی طرف بڑھانا اور تم اپنی زبان کے ذریعے صرف نیکی کی بات کہنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (818)»
حدیث نمبر: 18156
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلُّ مَا نَتَكَلَّمُ بِهِ يُكْتَبُ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ؟ ! إِنَّكَ لَنْ تَزَالَ سَالِمًا مَا سَكَتَّ ، فَإِذَا تَكَلَّمْتَ كُتِبَ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ مِنْ قَوْلِهِ : " إِنَّكَ لَنْ تَزَالَ " . إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جو بھی کلام کرتے ہیں وہ ہمارے حوالے سے نوٹ کیا جاتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو جہنم میں ان کے نتھنوں کے بل اوندھا کر کے صرف اُن کی زبان کی ( باتوں ) کی وجہ سے ہی ڈالا جائے گا ، تم جب تک خاموش رہو گے اس وقت تک سلامت رہو گے اور جب تم کلام کرو گے تو وہ تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف نوٹ کیا جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے ان الفاظ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے : ” تم اس وقت تک سلامت رہو گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہاں سے لے کر روایت کے آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل کیے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (73/20)»
حدیث نمبر: 18157
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْمَنُ امْرِئٍ وَأَشْأَمُهُ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کی سب سے زیادہ بابرکت اور سب سے زیادہ منحوس ( چیز ) وہ ہے جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18157
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (58/17)»
حدیث نمبر: 18158
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ هَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ! هَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ ؟ ! " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَمَتْنُهُ غَرِيبٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کے بارے میں میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کو ق ابومیں رکھو ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ اس شخص نے آپ کے سامنے اپنا سوال دہرایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری ماں تمہیں روئے ، لوگوں کو اُن کے نتھنوں کے بل جہنم میں صرف اُن کی زبان کی کھیتیوں کی وجہ سے ڈالا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : اس کی سند حسن ہے اور اس کا متن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3527)»
حدیث نمبر: 18159
وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ مُعَاذٌ : مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " آمِنْ بِاللَّهِ ، وَقُلْ خَيْرًا يُكْتَبْ لَكَ ، وَلَا تَقُلْ شَرًّا فَيُكْتَبَ عَلَيْكَ " . قَالَ : وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ ؟ ! فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں حکم دیں ، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ پر ایمان رکھو ! اور بھلائی کی بات کرو ، یہ تمہارے حق میں نوٹ کی جائے گی ، تم بری بات نہ کرنا ، ورنہ وہ تمھارے خلاف نوٹ کی جائے گی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہم جو کلام کرتے ہیں اُس کے حوالے سے ہمارا مواخذہ کیا جائے گا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18160
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ : " لَمَكَانُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ " - يَعْنِي مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، وَحَفِظَ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ، لوگوں کو خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جنت میں تمہارا مقام ہو گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : یعنی جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز یعنی زبان اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز یعنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا ( اُس کا ٹھکانہ جنت ہو گا ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4685)»
حدیث نمبر: 18161
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَخِذَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي مُوسَى فِي هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان ( یعنی زبان ) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان ( یعنی شرمگاہ ) کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث اس باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (919)»
حدیث نمبر: 18162
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ ضَمِنَ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مجھے اُس کی ضمانت دے جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے اور جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ، میں اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (756) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1855)»
حدیث نمبر: 18163
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي حَقِّ الضَّيْفِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں ، مہمان کے حق سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3574) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10843)»
حدیث نمبر: 18164
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ : إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا پھر خاموش رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن یحیی نیشاپوری کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3573)»
حدیث نمبر: 18165
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَلَا أَدُلَّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا خَفِيفَتَانِ عَلَى الظَّهْرِ ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا ؟ " . قَالَ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ ، وَطُولِ الصَّمْتِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! کیا میں تمہاری رہنمائی دو ایسی خصلتوں کی طرف نہ کروں جو پشت کے لیے ہلکی ہیں ، لیکن میزان میں اُن دونوں کے علاوہ ( دیگر چیزوں ) سے وزنی ہوں گی ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر اچھے اخلاق اور طویل خاموشی اختیار کرنا لازم ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مخلوق نے ان دونوں جیسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3573)»
حدیث نمبر: 18166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا " . قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِرُّ الوَالِدَيْنِ " قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ " ثُمَّ سَكَتَ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ لوگ تمہاری زبان سے سلامت رہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر میں خاموش ہو گیا ، اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید ( جواب ) ارشاد فرماتے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے ، صرف نماز کو اُس کے مخصوص وقت میں ادا کرنے والا حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن عبداللہ نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9802)»
حدیث نمبر: 18167
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ ، قَالَ : " امْلِكْ عَلَيْكَ هَذَا " . وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ وِجَادَةُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس پر ق ابورکھو ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات یعنی ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں ” وجادة“ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 18168
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ مِنْ أُمَّتِهِ : " اكْفُلُوا لِي بِسِتِّ خِصَالٍ ، وَأَكْفُلُ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ " . قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ ، وَالزَّكَاةُ ، وَالْأَمَانَةُ ، وَالْفَرْجُ ، وَالْبَطْنُ ، وَاللِّسَانُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ الطَّائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد موجود اپنی امت کے افراد سے ارشاد فرمایا : تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! امیں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ( وہ چیزیں ) کیا ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نماز ، زکوة ، امانت ، شرمگاہ ، پیٹ اور زبان ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن حماد طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18168
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18169
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَقَبَّلُوا لِي سِتًّا أَتَقَبَّلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ ، قَالُوا مَا هِيَ ؟ قَالَ : إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَكْذِبْ ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا يُخْلِفْ ، وَإِذَا ائْتُمِنَ فَلَا يَخُنْ ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ بْنَ سِنَانٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضٰ اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص بات کرے تو وہ جھوٹ نہ بولے : ، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرے ، جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے ، تم اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو ، اپنے ہاتھ روک کے رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یزید بن سنان نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4257)»
حدیث نمبر: 18170
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اكْفُلُوا لِي بِسِتٍّ أَكْفُلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ : إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَكْذِبْ ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا يُخْلِفْ ، وَإِذَا ائْتُمِنَ فَلَا يَخُنْ ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ ، وَكَفُّوا أَيْدِيَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَيُقَالُ ابْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، جب کوئی شخص بات کرے تو جھوٹ نہ بولے : ، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرے ، جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے ، تم اپنی نگاہیں جھکا رکھو ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور اپنے ہاتھ روک کے رکھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق ابن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2560) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8018)»
حدیث نمبر: 18171
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ; فَإِنَّهَا جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ; فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ كِتَابِهِ ; فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ ، وَذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ ، وَاخَزُنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ; فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ هُوَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ یہ ساری بھلائی کا مجموعہ ہے ، تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کی رہبانیت ہے ، تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کی کتاب کی تلاوت کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور ہو گا اور آسمان میں تمہارے لئے ذکر ہو گا ، تم اپنی زبان پر ق ابورکھو ، البتہ بھلائی کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (946) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1000) اخرجه احمد فى المسند (82/3)»
حدیث نمبر: 18172
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ اسْتَخَفَّ بِحَقِّهِ ، وَمَنْ كَثُرَتْ دُعَابَتُهُ ذَهَبَتْ جَلَالَتُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ مِزَاحُهُ ذَهَبَ وَقَارُهُ ، وَمَنْ شَرِبَ الْمَاءَ عَلَى الرِّيقِ انْتَقَصَتْ قُوَّتُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ كَثُرَتْ خَطَايَاهُ ، وَمَنْ كَثُرَتْ خَطَايَاهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کا ہنسنا زیادہ ہو گا ، اُس کا حق ہلکا ہو جائے گا ، جس شخص کا ہنسی مذاق زیادہ ہو گا اس کی جلالت رخصت ہو جائے گی ، جس کا مزاح زیادہ ہو گا ، اس کا وقار رخصت ہو جائے گا ، جو شخص ( صبح کے وقت بیدار ہونے کے بعد ) خالی پیٹ پانی پیے گا ، اس کی قوت نصف رہ جائے گی ، جو شخص زیادہ بات کرے گا اس کی فضولیات بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی فضولیات زیادہ ہوں گی اس کے گناہ زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے ، جہنم اس کے زیادہ لائق ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18173
وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا أَحَنَفُ ، مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ ، وَمَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِهِ ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُهُ ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُهُ مَاتَ قَلْبُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دُوَيْدُ بْنُ مُجَاشِعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ” اے احنف ! جس کا ہنسنا زیادہ ہو گا ، اس کی ہیبت کم ہو گی ، جو مزاح کرے گا ، اس کو ہلکا سمجھا جائے گا جو زیادہ کلام کرے گا اس کی فضولیات بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی فضولیات زیادہ ہوں گی اس کی حیاء کم ہو گی اور جس کی حیاء کم ہو گی اس کی پرہیزگاری کم ہو گی اور جس کی پرہیزگاری کم ہو گی ، اس کا دل مر جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دوید بن مجاشع ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18174
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ الْعَبْدَ يُعْطِي زُهْدًا فِي الدُّنْيَا ، وَقِلَّةَ النُّطْقِ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ ; فَإِنَّهُ يَلْقَى الْحِكْمَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : أَحْمَدَ بْنِ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جسے دنیا سے بے رغبتی اور کم گوئی عطا کی گئی ہو تو اس کے قریب رہو ، کیونکہ اسے حکمت القاء کی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد أحمد بن طاہر بن حرملہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18174
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 18175
وَعَنْ أَسْلَمَ : أَنَّ عُمَرَ اطَّلَعَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَهُوَ يَمُدُّ لِسَانَهُ فَقَالَ : مَا تَصْنَعُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! فَقَالَ : إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْجَسَدِ إِلَّا يَشْكُو ذَرَبَ اللِّسَانِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی زبان کو کھینچ رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے مجھے مختلف طرح کی صورتحال کا شکار کیا ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جسم کی ہر چیز زبان کی تیزی کی شکایت کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن محمد بن حیان کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5)»
حدیث نمبر: 18176
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو زیادہ کلام کرتا ہے اس کی لغزش زیادہ ہوتی ہے اور جس کی لغزش زیادہ ہو ، اس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں ، تو جہنم اس کی زیادہ حقدار ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18176
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 18177
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَخْزُنَ مِنْ لِسَانِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ضَعْفًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زُهَيْرِ بْنِ عَبَّادٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ زبان پر ق ابونہیں رکھتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن ہلال ہے جس کا ذکر ابن ابی حاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس میں کسی ضعف کا ذکر نہیں کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن عباد کا معاملہ مختلف ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18177
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (964)»
حدیث نمبر: 18178
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَوْصِنِي ، فَقَالَ : " دَعْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : آپ مجھے کوئی تلقین کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیل و قال ، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے کو چھوڑ دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 18179
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُحِبُّ اللَّهُ إِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَلَا كَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَلَا قِيلَ وَقَالَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي كِتَابِ الْعِلْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ مال ضائع کرنے کو ، کثرت سوال کو اور قیل و قال کو پسند نہیں کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب العلم میں گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18179
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6591) اخرجه احمد فى المسند (327/2)»
حدیث نمبر: 18180
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَبَكَتْ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ ، فَقَالَتْ وَاشَهِيدَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ ، مَا يُدْرِيكِ أَنَّهُ شَهِيدٌ ؟ وَلَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ ، وَيَبْخَلُ بِمَا لَا يَنْقُصُهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عِصَامُ بْنُ طَلِيقٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، ایک خاتون نے اس پر روتے ہوئے یہ کہہ دیا : ہائے شہید ! راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رک جاؤ ! تمہیں کیا پتا کہ یہ شہید ہے ؟ ہو سکتا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہو جو لایعنی ہوں اور وہ ایسی چیزوں کے حوالے سے بخل کرتا ہو ( جن کو خرچ کرنے سے ) اُس کے لیے کوئی کمی نہ ہوتی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عصام بن طلیق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18180
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6646)»