حدیث نمبر: 18134
عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، وَعَنْ زُفَرَ ، وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، وَعَنْ سُلَيْكِ بْنِ مِسْحَلٍ قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَتُكَلِّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّفَاقَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
شتیر بن شکل ، زفر ، صلہ بن زفر اور سلیک بن مسحل بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت بات چیت کر رہے تھے انہوں نے فرمایا : تم لوگ ایسا کلام کر جاتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اُسے منافقت شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 18135
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْيَوْمِ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ .
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ درست فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، بعض اوقات کوئی شخص ایسا کلام کرتا تھا کہ اس کے ذریعے وہ منافق ہو جاتا تھا اور اب ویسا کلام ، میں تم میں سے کسی ایک کی زبانی ایک محفل میں دس مرتبہ سن لیتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 18136
وَفِي رِوَايَةٍ : أَرْبَعَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الرُّقَادِ الْجُهَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : چار مرتبہ ( سن لیتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابورقاد جہنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابورقاد جہنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18137
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ كَذَا وَكَذَا خَرِيفًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی کوئی بات کہتا ہے اور اُس ( بات ) کی وجہ سے وہ جہنم میں اتنے اتنے سال تک گرتا رہے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18138
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - يَرْفَعُهُ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ ، وَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” آدمی کوئی بات کرتا ہے اور اس ( بات ) کے ذریعے اُس کا مقصد کوئی حرج والا نہیں ہوتا ، صرف اس کے ذریعے کچھ لوگوں کو ہنسانا مقصود ہوتا ہے لیکن اُس ( بات ) کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ ( بلندی سے جہنم میں ) گرے گا جتنا آسمان کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18139
وَعَنْ أَمَةَ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّةِ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَيْدُ ذِرَاعٍ ، فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا إِلَى أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیده امۃ بنت ابوالحکم غفاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی جنت کے قریب ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان میں ایک ذراع ( یعنی کہنی سے لے کر سب سے بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے پھر وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کی وجہ سے وہ جنت سے اس سے زیادہ دور ہو جاتا ہے جتنا ( یہاں سے ) صنعاء تک کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18140
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ ، مَا يَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مِنْهَا بِشَيْءٍ يَنْزِلُ بِهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ رَجَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” آدمی کوئی بات کرتا ہے تاکہ اُس کے ذریعے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہنسائے ، وہ وہاں سے کوئی چیز واپس لے کر نہیں لوٹتا ، لیکن وہ اس کلمے کی وجہ سے اس سے زیادہ بلندی سے گرے گا جتنا آسمان سے زمین تک کا فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن رجاء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن رجاء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔