کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: توکل کا بیان ، اسے ( یعنی جانور کو ) باندھ کر توکل کرو
حدیث نمبر: 18187
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُرْسِلُ رَاحِلَتِي وَأَتَوَكَّلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ قَيِّدْهَا وَتَوَكَّلْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی سواری کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم اُس کو باندھ کر توکل کرو ! ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعقوب بن عبداللہ بن عمرو بن امیہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعقوب بن عبداللہ بن عمرو بن امیہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18188
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ ؟ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین پرندے ( یعنی ان کا گوشت ) تحفے کے طور پر پیش کئے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لیے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کو لے آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟ کہ کل کے لئے کوئی چیز سنبھال کے رکھو ، اللہ تعالیٰ روزانہ کا رزق عطا کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔