حدیث نمبر: 18181
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : اسْتُشْهِدَ رَجُلٌ مِنَّا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَوُجِدَ عَلَى بَطْنِهِ صَخْرَةٌ مَرْبُوطَةٌ مِنَ الْجُوعِ ، فَمَسَحَتْ أُمُّهُ التُّرَابَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَتْ : هَنِيئًا لَكَ يَا بُنَيَّ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ لَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ ، وَيَمْنَعُ مَا لَا يَضُرُّهُ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر ہم میں سے ایک شخص نے جام شہادت نوش کیا ، اس کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا پایا گیا ، جو بھوک کی وجہ سے باندھا گیا تھا ، اس کی ماں نے اس کے چہرے سے مٹی پونچھتے ہوئے یہ کہا: اے میرے بیٹے ! تمہیں جنت مبارک ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کیسے پتا چلا ؟ ہو سکتا ہے یہ گفتگو کرتے ہوئے لایعنی گفتگو کرتا ہو اور ایسی چیز نہ دیتا ہو ( جس کو دے دینے سے ) اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18181
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4017)»