عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ تَعَالَى ! فَقَالَ : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُسْتَحْيِيًا فَلَا يَبِيتَنَّ لَيْلَةً إِلَّا وَأَجَلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا وَعَى ، وَالرَّأْسَ وَمَا حَوَى ، وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى . وَلْيَتْرُكْ زِينَةَ الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا ، اس وقت آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے : ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ، جو حیاء کرنے کا حق ہے ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص حیاء کرنے والا ہو ، وہ رات نہ گزارے ، مگر یہ کہ اس کی اجل اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہو اور وہ پیٹ اور جو پیٹ کے اندر ہے اور سر اور جو سر میں ہے ، اس کی حفاظت کرے اور وہ موت اور ( اپنے جسم کے ) بوسیدہ ہو جانے کو یاد کرے ، اور دنیا کی زینت ترک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ ، احْفَظُوا الرَّأْسَ وَمَا حَوَى ، وَالْبَطْنَ وَمَا وَعَى ، وَاذْكُرُوا الْمَوْتَ وَالْبِلَى ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ثَوَابُهُ جَنَّةُ الْمَأْوَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالی سے یوں حیاء کرو ، جو حیاء کرنے کا حق ہے ، سر اور جو اس میں ہے ، پیٹ اور جو اس میں ہے ، ان کی حفاظت کرو ، موت اور بوسیدہ ہو جانے کو یاد رکھو ، جو شخص ایسا کرے گا ، اس کا ثواب جنت الماویٰ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم قرشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم قرشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ الْوَلِيدِ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ : اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا تَسْتَحْيُونَ ؟ " . قَالُوا : مِمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَجْمَعُونَ مَا لَا تَأْكُلُونَ ، وَتَبْنُونَ مَا لَا تُعَمِّرُونَ ، وَتَأْمُلُونَ مَا لَا تُدْرِكُونَ . أَلَا تَسْتَحْيُونَ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام ولید بنت عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا تم حیاء نہیں کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس سے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو جمع کرتے ہو جو تم نے کھانا نہیں ہو گا ، ایسی تعمیر کرتے ہو ، جسے تم نے ( ہمیشہ ) آباد نہیں رکھنا ، اس چیز کے بارے میں خواہش رکھتے ہو ، جس تک تم نہیں پہنچ پاؤ گے ، کیا تم اس سے حیاء نہیں کرتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ الْأَزْدِيِّ : أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَوْصِنِي . قَالَ : " أُوصِيكَ أَنْ تَسْتَحْيِيَ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَمَا تَسْتَحْيِي مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ مِنْ قَوْمِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن یزید ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی ، آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالی سے یوں حیاء کرنا ، جس طرح تم اپنی قوم کے کسی نیک شخص سے حیاء کرتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی ہے ، اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی ہے ، اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : [ لَقَدْ ] كَانَ أَحَدُنَا يَكُفُّ عَنِ الشَّيْءِ ، وَهُوَ وَهِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ تَخَوُّفًا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص کسی چیز سے رک جاتا تھا حالانکہ وہ شخص اور وہ چیز ایک ہی کپڑے میں ہوتے تھے ، وہ اس خوف کی وجہ سے رک جاتا تھا کہ کہیں اس کے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔