حدیث نمبر: 18043
وَعَنْ أُمِّ الْوَلِيدِ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ : اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا تَسْتَحْيُونَ ؟ " . قَالُوا : مِمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَجْمَعُونَ مَا لَا تَأْكُلُونَ ، وَتَبْنُونَ مَا لَا تُعَمِّرُونَ ، وَتَأْمُلُونَ مَا لَا تُدْرِكُونَ . أَلَا تَسْتَحْيُونَ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام ولید بنت عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا تم حیاء نہیں کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس سے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو جمع کرتے ہو جو تم نے کھانا نہیں ہو گا ، ایسی تعمیر کرتے ہو ، جسے تم نے ( ہمیشہ ) آباد نہیں رکھنا ، اس چیز کے بارے میں خواہش رکھتے ہو ، جس تک تم نہیں پہنچ پاؤ گے ، کیا تم اس سے حیاء نہیں کرتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (172/25)»