مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الْحَيَاءِ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . باب: اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ تَعَالَى ! فَقَالَ : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُسْتَحْيِيًا فَلَا يَبِيتَنَّ لَيْلَةً إِلَّا وَأَجَلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا وَعَى ، وَالرَّأْسَ وَمَا حَوَى ، وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى . وَلْيَتْرُكْ زِينَةَ الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا ، اس وقت آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے : ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ، جو حیاء کرنے کا حق ہے ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص حیاء کرنے والا ہو ، وہ رات نہ گزارے ، مگر یہ کہ اس کی اجل اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہو اور وہ پیٹ اور جو پیٹ کے اندر ہے اور سر اور جو سر میں ہے ، اس کی حفاظت کرے اور وہ موت اور ( اپنے جسم کے ) بوسیدہ ہو جانے کو یاد کرے ، اور دنیا کی زینت ترک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔