عَنْ جَابِرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : " يَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ . يَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ ، النَّاسُ غَادِيَانِ : فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمَوْبِقٌ رَقَبَتَهَا ، وَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقِ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے کعب بن عجرہ ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے ، روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہ کو یوں بجھا دیتا ہے ، جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کی صورت حال میں ، صبح کرتے ہیں ، لوگ دو طرح کی صورت حال میں صبح کرتے ہیں ، ایک شخص اپنے آپ کو فروخت کر کے خود کو غلام بنوا لیتا ہے اور کوئی شخص اپنے آپ کو خرید کر خود کو آزاد کروا لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1609) اخرجه ابو يعلى فى المسند (1999) اخرجه احمد فى المسند (13321)»
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ; فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَا أَنَا مِنْهُ ، وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُ . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَلَا دَمٌ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ ; فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ وَرَائِحَانِ : فَغَادٍ فِي فِكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا ، وَغَادٍ فَمَوْبِقُهَا . يَا كَعْبُ ، الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُذْهِبُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے کعب بن عجرہ ! جب تم پر ایسے حکمران آ جائیں کہ جو شخص ان کے پاس آئے ، اور وہ ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق کرے ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے ، تو اس شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ شخص حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا ، اور جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد نہ کرے ، تو اس شخص کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا ۔ “ اے کعب بن عجرہ ! جنت میں ایسا گوشت ، یا خون داخل نہیں ہو گا ، جن کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ، جہنم اُن کی زیادہ حقدار ہو گی ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کی حالت میں صبح کرتے ہیں ، کوئی شخص اپنی گردن کو آزاد کروا کے اُسے آزاد کر دیتا ہے اور کوئی اسے غلام بنوا لیتا ہے ۔ اے کعب ! نماز ، برہان ہے اور صدقہ ، گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح جما ہوا قطرہ ، ہموار جگہ سے پھسل جاتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (105/19)»