وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ; فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَا أَنَا مِنْهُ ، وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُ . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَلَا دَمٌ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ ; فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ وَرَائِحَانِ : فَغَادٍ فِي فِكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا ، وَغَادٍ فَمَوْبِقُهَا . يَا كَعْبُ ، الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُذْهِبُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے کعب بن عجرہ ! جب تم پر ایسے حکمران آ جائیں کہ جو شخص ان کے پاس آئے ، اور وہ ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق کرے ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے ، تو اس شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ شخص حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا ، اور جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد نہ کرے ، تو اس شخص کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا ۔ “ اے کعب بن عجرہ ! جنت میں ایسا گوشت ، یا خون داخل نہیں ہو گا ، جن کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ، جہنم اُن کی زیادہ حقدار ہو گی ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کی حالت میں صبح کرتے ہیں ، کوئی شخص اپنی گردن کو آزاد کروا کے اُسے آزاد کر دیتا ہے اور کوئی اسے غلام بنوا لیتا ہے ۔ اے کعب ! نماز ، برہان ہے اور صدقہ ، گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح جما ہوا قطرہ ، ہموار جگہ سے پھسل جاتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔