عَنْ جَابِرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : " يَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ . يَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ ، النَّاسُ غَادِيَانِ : فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمَوْبِقٌ رَقَبَتَهَا ، وَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقِ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے کعب بن عجرہ ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے ، روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہ کو یوں بجھا دیتا ہے ، جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کی صورت حال میں ، صبح کرتے ہیں ، لوگ دو طرح کی صورت حال میں صبح کرتے ہیں ، ایک شخص اپنے آپ کو فروخت کر کے خود کو غلام بنوا لیتا ہے اور کوئی شخص اپنے آپ کو خرید کر خود کو آزاد کروا لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔