کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قیامت کے دن بندے کا اپنے عمل کو حقیر سمجھنا
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ; لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر کسی شخص کو اس کی پیدائش کے دن سے لے کر ، اُس کے مرنے کے دن تک ، چہرے کے بل گرایا جاتا رہے ، تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل ہو ، تو قیامت کے دن وہ شخص اس کو بھی حقیر سمجھے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ” اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر ، اس کی پیدائش کے دن سے لے کر ، بڑھاپے کی حالت میں ، اس کے انتقال کے دن تک ، چہرے کے بل گھسیٹا جائے ، تو اس ( یعنی قیامت کے ) دن وہ اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے وہ ایسا اس لئے چاہے گا ، تاکہ اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (249/1) اخرجه احمد فى المسند (185/4)»