مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ احْتِقَارِ الْعَبْدِ عَمَلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . باب: قیامت کے دن بندے کا اپنے عمل کو حقیر سمجھنا
حدیث نمبر: 17681
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا محمد بن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ” اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر ، اس کی پیدائش کے دن سے لے کر ، بڑھاپے کی حالت میں ، اس کے انتقال کے دن تک ، چہرے کے بل گھسیٹا جائے ، تو اس ( یعنی قیامت کے ) دن وہ اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے وہ ایسا اس لئے چاہے گا ، تاکہ اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔