کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آدمی کا ، اپنے بھائی کے لئے ، اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنا
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دُعَاءُ الْأَخِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ لَا يُرَدُّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ اسدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مظلوم کی دعا ، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ، اُس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے ، اُسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف جاؤ ، جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور ابوعبداللہ اسدی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور ابوعبداللہ اسدی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا الْمَرْءُ لِأَخِيهِ بِظَاهِرِ الْغَيْبِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : آمِينَ ، وَلَكَ بِمِثْلِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے ، تو فرشتے کہتے ہیں : آمین ! اور تمہیں بھی اس کی مانند نصیب ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ بَعْدَ مَا سَلَّمَ ، وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ خَلِّصْ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَضَعَفَةَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً ، وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ أَنَّهُ قَنَتَ بِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد سر اٹھایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ قبلہ کی طرف تھا ، آپ نے یہ کہا: ( یعنی یہ دعا کی : ) ” اے اللہ ! سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابوربیعہ اور ولید بن ولید اور کمزور مسلمانوں کو خلاصی نصیب فرما ، جو کوئی حیلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں اور کوئی راستہ نہیں پاتے ہیں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں یہ روایت مذکور ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں یہ روایت مذکور ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ پڑھی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔