کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان ، جن ک دعا رد نہیں ہوتی ، جیسے مظلوم ، غیر موجود شخص اور دیگر لوگ
حدیث نمبر: 17227
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ ، وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا ; فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ " . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ فِي دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مظلوم کی دعا مستجاب ہوتی ہے ، اگرچہ وہ گناہ گار ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ اس کا گناہ گار ہونا ، اُس کے اپنے خلاف ہو گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد نے مظلوم کی دعا کے بارے میں ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد نے مظلوم کی دعا کے بارے میں ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17228
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرُدَّ لَهُمْ دَعْوَةً : الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَالْمَظْلُومُ حَتَّى يَنْتَصِرَ ، وَالْمُسَافِرُ حَتَّى يَرْجِعَ " . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ الْمُسَافِرِ ، وَبِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اُن کی دعا کو رد نہ کرے ، روزہ دار شخص ، جب تک وہ افطاری نہیں کر لیتا ، مظلوم شخص ، جب تک وہ مدد ( یعنی بدلہ ) حاصل نہیں کر لیتا اور مسافر شخص ، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا ۔ “
یہ روایت امام ترمذی نے ، مسافر والے حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں یہ سیاق نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے ، مسافر والے حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں یہ سیاق نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17229
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " ثَلَاثٌ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمُ : الذَّاكِرُ لِلَّهِ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَفِي إِسْنَادِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ إِسْحَاقُ بْنُ زَكَرِيَّا الْأَيْلِيُّ : شَيْخُ الْبَزَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تین قسم کے لوگ ہیں ، جن کی دعا رد نہیں ہوتی ہے ، اللہ کا ذکر کرنے والا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ دوسری روایت کی سند میں ، ایک راوی اسحاق بن زکریا ایلی ہے جو امام بزار کا استاد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17230
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ ، الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْغَيْرَةِ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَ ( مَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَالْأُخْرَى يَبْغَضُهَا اللَّهُ ) ، وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ ، وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبَرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " . وَقَالَ : " ثَلَاثَةٌ تُسْتَجَابُ دَعْوَتُهُمُ : الْوَالِدُ ، وَالْمُسَافِرُ ، وَالْمَظْلُومُ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مزاج کی تیزی دو قسم کی ہوتی ہے ، ایک قسم کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور دوسری کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، مشکوک کے بارے میں مزاج کی تیزی کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور مشکوک کے علاوہ صورتحال میں مزاج کی تیزی کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، اور اترانا دو طرح کا ہوتا ہے ، ان میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ، اور دوسری قسم کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، جب کوئی شخص صدقہ کرتے ہوئے اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے اور جب کوئی شخص تکبر کرتے ہوئے اتراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں ، جن کی دعا قبول ہوتی ہے ، والد ، مسافر اور مظلوم ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن زید ازرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن زید ازرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17231
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْوَتَانِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمَرْءِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کی دعائیں ایسی ہیں کہ ان دونوں کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا ، مظلوم کی دعا اور آدمی کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی جانے والی دعا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر ملیکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر ملیکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17232
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ; فَإِنَّهَا تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : وَعِزَّتِي وَجَلَالِي ، لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مظلوم کی دعا ( یعنی بددعا ) سے بچو ! کیونکہ وہ بادل کے اوپر جاتی ہے ، اور اللہ تعالی یہ فرماتا ہے : ” مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے ، میں تمہاری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد کروں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 17233
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَ : أَمَرَنِي رَجُلٌ أَنْ أَدْعُوَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ غُفِرَ لِصَاحِبِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف کر رہا تھا ، اسی دوران آپ نے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ فلاں بن فلاں کی مغفرت کر دے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے بتایا : ایک شخص نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کے لئے دعا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے ساتھی کی مغفرت ہو گئی ہے ( یہاں مراد یہ ہے : کیونکہ تم نے اس کی غیر موجودگی میں ، اس کے لئے دعا کی ہے ، اس لیے یہ دعا قبول ہوئی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عمران جعفری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث بن عمران جعفری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔