کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ورقہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسُبُّوا وَرَقَةَ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ لَهُ جَنَّةً أَوْ جَنَّتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَزَادَ فِي الْمُرْسَلِ : كَانَ بَيْنَ أَخِي وَرَقَةَ وَبَيْنَ رَجُلٍ كَلَامٌ ، فَوَقَعَ الرَّجُلُ فِي وَرَقَةَ لِيُغْضِبَهُ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ وَالْمُرْسَلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ورقہ کو برا نہ کہو ! کیونکہ میں نے اس کے لئے ایک باغ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو باغ دیکھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے متصل اور مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے مرسل روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میرے بھائی ورقہ اور ایک شخص کے درمیان کچھ کلام ہوا ، تو دوسرے شخص نے سیدنا ورقہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، تاکہ اسے غضب کا شکار کرے ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ، مسند اور مرسل روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزاز فى المسند (2571 و 2750)»
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، فَقَالَ : " يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ورقہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16176
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (82/24)»