کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جناب ابوطالب اور دیگر کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16177
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ : هَلْ تَنْفَعُهُ نُبُوَّتُكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَخْرَجْتُهُ مِنْ غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ إِلَى ضَحْضَاحٍ مِنْهَا " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ - لِأَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ الْفَرَائِضِ وَأَحْكَامِ الْقُرْآنِ - فَقَالَ : " أَبْصَرْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، فَقَالَ : " أَبْصَرْتُهُ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِ سُنْدُسٌ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَقَالَ : " يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَهَذَا مِمَّا مُدِحَ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے چچا جناب ابوطالب کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیا آپ کی نبوت انہیں فائدہ پہنچائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے انہیں جہنم کے نچلے حصے سے نکال کے اس کے اوپری حصے تک پہنچا دیا ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیونکہ وہ فرائض اور قرآن کے احکام نازل ہونے سے پہلے انتقال کر گئی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اسے جنت کی نہر کے کنارے موجود ، موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے ، جس میں کوئی شور و شغب اور کوئی پریشانی نہیں ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے فرمایا : میں نے اسے جنت کے درمیان میں دیکھا ہے اور اس کے جسم پر سندس کا لباس تھا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر زندہ کیا جائے گا ، جو اُمت میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور وہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جس کی حدیث کی تعریف کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16177
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2047)»
حدیث نمبر: 16178
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ ، وَيَقُولُ : دِينِي دِينُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِلَهِي إِلَهُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكَانَ يُصَلِّي وَيَسْجُدُ ؟ قَالَ : " ذَاكَ أُمَّةٌ وَحْدَهُ ، يُحْشَرُ بَيْنِي وَبَيْنَ يَدَيْ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، وَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ وَيَقُولُ : إِلَهِي إِلَهُ زَيْدٍ ، وَدِينِي دِينُ زَيْدٍ ، وَكَانَ يَتَوَجَّهُ وَيَقُولُ : ¤ رَشَّدْتَ فَأَنْعَمْتَ ابْنَ عَمْرٍو فَإِنَّمَا تَجَنَّبْتَ تَنُّورًا مِنَ النَّارِ حَامِيًا بِدِينِكَ دِينًا لَيْسَ دِينٌ كَمِثْلِهِ ¤ وَتَرَكِكَ جِنَانَ الْجِبَالِ كَمَا هِيَا . ¤ قَالَ : " رَأَيْتُهُ يَمْشِي فِي بُطْنَانِ ‌‌الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ " . ¤ وَسُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ : " رَأَيْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لَا تَعَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدٍ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَهَذَا مِنْ جِيِّدِ حَدِيثِهِ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں دریافت کیا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے یہ کہتا تھا کہ میرا دین وہی ہے ، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ، اور میرا معبود وہی ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا معبود ہے ، وہ نماز پڑھتا تھا اور سجدہ کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک اُمت ہے ، جسے میرے اور سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے درمیان ( اُمت ہونے کے طور پر ) زندہ کیا جائے گا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے یہ کہتا تھا : میرا معبود وہی ہے جو زید کا معبود ہے ، اور میرا دین وہی ہے ، جو زید کا دین ہے اور پھر وہ رُخ کر کے یہ اشعار کہتا تھا :
” تم نے سمجھداری حاصل کی ، اے ابن عمرو ! تم اچھے ہو ، تم نے بھڑکتی ہوئی آگ کے تنور سے علیحدگی اختیار کی ، اپنے دین کے ذریعے ، جو ایک ایسا دین ہے کہ کوئی دین اس کی مانند نہیں ہے ، اور تم نے پہاڑوں کے باغات کو ویسے ہی چھوڑ دیا جیسے وہ تھے “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے جنت کے درمیان میں چلتے ہوئے دیکھا ہے ، اس پر سندس کا بنا ہوا حلہ موجود تھا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے فرمایا : میں نے اسے جنت کی ایک نہر کے کنارے موجود موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے ، جس میں کوئی پریشانی اور کوئی تکلیف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور
یہ روایت اس کی نقل کردہ عمدہ احادیث میں سے ایک ہے ، جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2752)»