کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16172
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ - يَعْنِي الْبَيْكَنْدِيَّ - : إِنَّمَا نَعُدُّ الشَّرَفَ مَا كَانَ قُبَيْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَهْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاتَّصَلَ فِي الْإِسْلَامِ فَبَيَّتَ الْيُمْنُ الَّذِي فِي الصِّفَةِ عِبْدَ الْعِزِّ فِي كِنْدَةِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، وَفَارِسِهَا مِنْ زُبَيْدٍ : عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، وَشَاعِرِهَا : امْرِئِ الْقَيْسِ مِنْ كِنْدَةَ ، لَا يُخْتَلَفُ فِي هَذَا . ¤ قُلْتُ : مَا أَدْرِي مَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سلام بیکندی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کچھ پہلے سے لے کر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس تک جس چیز کو شرف سمجھا جاتا تھا اور یہ چیز اسلام میں بھی شامل ہوئی ، وہ یمن کا ایک گھرانہ ہے ، جو صفہ میں کندہ میں تھا ، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے شہوار زبید سے تعلق رکھتے تھے ، عمرو بن معدیکرب ان کا شاعر تھا ، امرءالقیس کندہ سے تعلق رکھتا تھا ، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) مجھے نہیں پتہ کہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 16173
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ كِنْدَةَ دَيْنٌ ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَيْهِ بِالْأَسْحَارِ ، فَأَدْرَكَتْنِي صَلَاةُ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ وَضَعَ قُدَّامَ كُلِّ إِنْسَانٍ حُلَّةً وَنَعْلًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ ، قُلْتُ : إِنِّي لَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ [ قَالَ : وَإِنْ كُنْتَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ ] ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : قَدِمَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ مَكَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے کندہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے قرض لینا تھا ، میں سحری کے وقت اس کے پاس آتا جاتا رہا ، ایک دن میں فجر کی نماز کے بعد سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی مسجد میں موجود تھا ، میں نے نماز ادا کی ، جب امام نے سلام پھیرا ، تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ہر شخص کے آگے ایک لباس اور ایک جوتا اور پانچ سو درہم رکھوائے ، میں نے کہا: میں اس مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : اگرچہ تم مسجد کے باقاعدہ آنے والوں میں سے نہیں ہو ( پھر بھی اسے قبول کرو ) تو میں نے کہا: یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں ، جو مکہ سے آئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16174
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ بِالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، أُشِيرَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَطْلَقَ وَثَاقَهُ ، وَزَوَّجَهُ أُخْتَهُ ، فَاخْتَرَطَ سَيْفُهُ وَدَخَلَ سُوقَ الْإِبِلِ ، فَجَعَلَ لَا يَرَى جَمَلًا وَلَا نَاقَةً إِلَّا عَرْقَبَهُ ، وَصَاحَ النَّاسُ : كَفَرَ الْأَشْعَثُ ، فَلَمَّا فَرَغَ طَرَحَ سَيْفَهُ ، وَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَفَرْتُ ، وَلَكِنْ زَوَّجَنِي هَذَا الرَّجُلُ أُخْتَهُ ، وَلَوْ كُنَّا فِي بِلَادِنَا كَانَتْ لَنَا وَلِيمَةٌ غَيْرُ هَذِهِ ، يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، انْحَرُوا وَكُلُوا ، وَيَا أَهْلَ الْإِبِلِ ، تَعَالَوْا خُذُوا شِرَاءَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جب سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا ، انہوں نے ان کی بندش کھولی اور اپنی بہن کے ساتھ ان کی شادی کروا دی ، سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سونتی ، وہ اونٹوں کے بازار میں داخل ہوئے اور انہیں جو بھی اونٹ اور اونٹنی نظر آئے ، وہ اس کے پاؤں کاٹتے گئے ، لوگ بلند آواز میں کہنے لگے : سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کفر اختیار کر لیا ہے ، جب سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس بات سے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے اپنی تلوار رکھی اور بولے : اللہ کی قسم ! میں نے کفر نہیں کیا ہے ، بلکہ ان صاحب نے ( یعنی امیرالمؤمنین نے ) اپنی بہن کے ساتھ میری شادی کی ہے ، اگر ہم اپنے علاقے میں موجود ہوتے تو ہمارا ولیمہ اس سے زیادہ بڑا ہوتا ، اے اہل مدینہ ! تم ان سب جانوروں کو قربان کر کے ان کا گوشت کھاؤ ، اور اے اونٹوں والو ! تم آگے آؤ اور اپنا معاوضہ وصول کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالمؤمن بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالمؤمن بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔