کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : الْمُغِيرَةُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ ، أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الطَّرِيقِ ، وَكَانَ مِمَّنْ ثَبَتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، تُوُفِّيَ سَنَةَ عِشْرِينَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا مغیرہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا ، ان کی ملاقات راستے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تھی ، یہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے ، ان کا انتقال 20 ہجری میں ہوا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366/20)»
وَعَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ لَا يَنْظُرُ فِي نَاحِيَةٍ إِلَّا رَأَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ يُقَاتِلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ خَيْرُ أَهْلِي - أَوْ مِنْ خَيْرِ أَهْلِي - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحبہ بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی سمت میں دیکھا ، تو آپ نے یہی ملاحظہ فرمایا کہ سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ جنگ کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ابوسفیان ، میرے اہل خانہ میں سب سے بہتر ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بے شک ابوسفیان میرے اہل خانہ کے بہتر افراد میں سے ایک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (327/22)»