کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ، جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں
حدیث نمبر: 15506
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بْنِ شُرَاحِيلَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ عَامِرِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ عَوْفِ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُذْرَةَ بْنِ زَيْدِ اللَّهِ بْنِ رُفَيْدَةَ بْنِ كُلَيْبِ بْنِ وَبَرَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ قُضَاعَةَ . ¤ وَيُقَالُ : إِنَّ أُمَّ زَيْدٍ : سُعَادُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ طَيِّئٍ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ بن شراحیل بن کعب بن عبدالعزیٰ بن امراء القیس بن عامر بن نعمان بن عبدود بن عوف بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذره بن زید بن رفیدہ بن کلیب بن وبرہ بن حارث بنقضاعہ ہیں ۔ ایک روایت کے مطابق سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام ، سعاد بنت زید بن طی ہے ۔
حدیث نمبر: 15507
قَالَ ابْنُ هِشَامٍ : وَكَانَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصِيفًا ، فَاسْتَوْهَبَتْهُ مِنْهُ عَمَّتُهُ : خَدِيجَةُ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَهَبَهُ لَهَا فَوَهَبَتْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ وَتَبَنَّاهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَقَدِمَ أَبُوهُ وَهُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ مَعِي ، وَإِنْ شِئْتَ فَانْطَلِقْ مَعَ أَبِيكَ ؟ " . قَالَ : لَا . بَلْ أُقِيمُ عِنْدَكِ ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَعَثَهُ اللَّهُ فَصَدَّقَهُ ، وَأَسْلَمَ وَصَلَّى مَعَهُ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ ) . قَالَ : أَنَا زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ہشام بیان کرتے ہیں : سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام سے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مزدور کے طور پر ساتھ لائے تھے ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے وہ مزدور مانگ لیا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے وہ غلام سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے وہ غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے آزاد کر کے اُسے منہ بولا: بیٹا بنا لیا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ ان دنوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میرے ساتھ ٹھہرے رہو ، اور اگر تم چاہو تو اپنے والد کے ساتھ چلے جاؤ ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میں آپ کے ساتھ رہوں گا ۔ تو وہ مسلسل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم انہیں ان کے حقیقی باپوں کی نسبت سے بلاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں زید بن حارثہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15508
وَبِسَنَدِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : أَسْلَمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بَعْدَ عَلِيٍّ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ بَعْدَهُ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے اس سند کے ساتھ ابن اسحاق کا یہ قول نقل کیا ہے : سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام قبول کیا تھا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد اسلام قبول کرنے والے یہ پہلے فرد ہیں ۔
حدیث نمبر: 15509
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15510
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ ، وَعَلِيٌّ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَقَالَ زَيْدٌ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالُوا : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَسْأَلَهُ . ¤ قَالَ أُسَامَةُ : فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ مِنْ هَؤُلَاءِ ؟ " . فَقُلْتُ : هَذَا جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدٌ ، مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ : " ائْذَنْ لَهُمْ " . فَدَخَلُوا فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " فَاطِمَةُ " . قَالُوا : نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي ، وَأَشْبَهُ خُلُقُكَ خُلُقِي ، وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي . وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي ، وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي . وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي ، وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں تم سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ لوگوں سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں ، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہوں ، پھر انہوں نے کہا: تم ہمارے ساتھ اللہ کے رسول کی طرف چلو ! تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں ۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ حضرات تشریف لائے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جا کر دیکھو ! کہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہیں ، میں نے یہ نہیں کہا: میرے والد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں اجازت دیدو ! یہ حضرات اندر آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فاطمہ ، اُنہوں نے عرض کی : ہم آپ سے مردوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے جعفر ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے اخلاق میرے اخلاق سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، تم مجھ سے ہو اور میرا شجرہ ہو ، اور اے علی ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو تم میرے داماد ہو اور میرے بچوں کے باپ ہو ، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو ، اور اے زید ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہو اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15511
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ جِيءَ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَأُوقِفُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخِّرَ ، ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ فَوَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أُلَاقِي مِنْكَ الْيَوْمَ مَا لَقِيتُ مِنْكَ أَمْسِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو لایا گیا اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، تو انہیں پیچھے کر دیا گیا ، پھر وہ اگلے دن آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری وجہ سے کل جو میری کیفیت ہوئی تھی آج بھی وہی کیفیت ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 15512
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آخَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بھائی بنا دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن صالح ازدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن صالح ازدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔