کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سیدہ مریم رضی اللہ عنہا سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّخْرَةُ صَخْرَةُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ عَلَى نَخْلَةٍ ، وَالنَّخْلَةُ عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، وَتَحْتَ النَّخْلَةِ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ ، يُنْظِمَانِ سُمُوطَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ مُنْكَرَاتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ پتھر جو بیت المقدس کا پتھر ہے وہ کھجور کے درخت پر ہے ، اور وہ کھجور کا درخت جنت کی نہروں میں سے ایک نہر کے کنارے پر ہو گا اور کھجور کے اس درخت کے نیچے آسیہ بنت مزاحم ہوں گی ، جو فرعون کی اہلیہ ہیں اور مریم بنت عمران ہوں گی اور یہ دونوں قیامت کے دن تک اہل جنت کے ہاروں کو پروتی رہیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور یہ حدیث اس کے منکرات میں سے ایک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور یہ حدیث اس کے منکرات میں سے ایک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَائِشَةَ : " أَشْعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَنِي فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ ، وَكَلْثَمَ أُخْتَ مُوسَى ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ فرماتے ہوئے سنا : ” کیا تم یہ بات جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں میری شادی مریم بنت عمران سے اور سیدنا موسیٰ کی بہن کلثوم سے اور فرعون کی بیوی ( سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا ) سے کروا دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن سیف سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن سیف سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ زَوَّجَنِي فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ ، وَأُخْتَ مُوسَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت میں میری شادی مریم بنت عمران اور فرعون کی اہلیہ ( سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا سے ) اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہن سے کروا دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي رَوَّادٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِي مَرَضِهَا الَّذِي تُوُفِّيَتْ فِيهِ ، فَقَالَ لَهَا : " بِالْكُرْهِ مِنِّي مَا الَّذِي أَرَى مِنْكِ يَا خَدِيجَةُ ، وَقَدْ يَجْعَلُ اللَّهُ فِي الْكُرْهِ خَيْرًا كَثِيرًا ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَوَّجَنِي مَعَكِ فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ ، وَكَلْثَمَ أُخْتَ مُوسَى ؟ " . قَالَتْ : وَقَدْ فَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَقَالَتْ : بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَبَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي فِيهَا : " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا أَرْبَعَةٌ " . فِي مَوَاضِعِهَا مُفَرَّقَةٌ فِي فَضْلِ آدَمَ ، وَفَاطِمَةَ ، وَخَدِيجَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورواد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی اس بیماری کے دوران تشریف لائے جس بیماری میں ان کا انتقال ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے خدیجہ ! میں تمہاری جو صورت حال دیکھ رہا ہوں یہ مجھے ناپسند ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس ناپسندیدہ چیز میں بہت زیادہ بھلائی رکھ دے گا ، کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں تمہارے ساتھ ، میری شادی مریم بنت عمران سے کروائی ہے ، اور فرعون کی بیوی سے کروائی ہے ، اور کلثوم سے کروائی ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہن ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بہت بہت مبارک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ بقیہ حدیث وہ ہے جس میں یہ بات مذکور ہے : ” مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں ، خواتین میں سے صرف چار خواتین کامل ہوئی ہیں ۔ “ یہ حدیث اپنے مخصوص مقام پر آئے گی ، اس کا کچھ حصہ سیدنا آدم علیہ السلام کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے کچھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ، کچھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے متعلق باب میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ بقیہ حدیث وہ ہے جس میں یہ بات مذکور ہے : ” مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں ، خواتین میں سے صرف چار خواتین کامل ہوئی ہیں ۔ “ یہ حدیث اپنے مخصوص مقام پر آئے گی ، اس کا کچھ حصہ سیدنا آدم علیہ السلام کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے کچھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ، کچھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے متعلق باب میں ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ فِرْعَوْنَ أَوْتَدَ لِزَوْجَتِهِ أَرْبَعَةَ أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا ، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوا عَنْهَا أَظَلَّتْهَا الْمَلَائِكَةُ ، فَقَالَتْ : رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ . فَكَشَفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فرعون نے اپنی بیوی کے لئے چار کیل لگوائے تھے ، دو ان کے ہاتھوں میں لگے تھے اور دو ان کے پاؤں میں لگے تھے ، جب وہ لوگ اس خاتون کو چھوڑ کر چلے گئے تو فرشتوں نے اس خاتون پر سایہ کر لیا تو اس خاتون نے کہا: ” میرے پروردگار تو اپنے پاس میرے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دیدے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دیدے ۔ “ تو اس خاتون کے لئے جنت میں گھر سامنے آیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔