مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الْفَضْلِ لِمَرْيَمَ وَآسِيَةَ وَغَيْرِهِمَا باب: سیدہ مریم رضی اللہ عنہا سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي رَوَّادٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فِي مَرَضِهَا الَّذِي تُوُفِّيَتْ فِيهِ ، فَقَالَ لَهَا : " بِالْكُرْهِ مِنِّي مَا الَّذِي أَرَى مِنْكِ يَا خَدِيجَةُ ، وَقَدْ يَجْعَلُ اللَّهُ فِي الْكُرْهِ خَيْرًا كَثِيرًا ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - زَوَّجَنِي مَعَكِ فِي الْجَنَّةِ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ ، وَامْرَأَةَ فِرْعَوْنَ ، وَكَلْثَمَ أُخْتَ مُوسَى ؟ " . قَالَتْ : وَقَدْ فَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَقَالَتْ : بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَبَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي فِيهَا : " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا أَرْبَعَةٌ " . فِي مَوَاضِعِهَا مُفَرَّقَةٌ فِي فَضْلِ آدَمَ ، وَفَاطِمَةَ ، وَخَدِيجَةَ . ¤سیدنا ابورواد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی اس بیماری کے دوران تشریف لائے جس بیماری میں ان کا انتقال ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے خدیجہ ! میں تمہاری جو صورت حال دیکھ رہا ہوں یہ مجھے ناپسند ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس ناپسندیدہ چیز میں بہت زیادہ بھلائی رکھ دے گا ، کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں تمہارے ساتھ ، میری شادی مریم بنت عمران سے کروائی ہے ، اور فرعون کی بیوی سے کروائی ہے ، اور کلثوم سے کروائی ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہن ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بہت بہت مبارک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ بقیہ حدیث وہ ہے جس میں یہ بات مذکور ہے : ” مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں ، خواتین میں سے صرف چار خواتین کامل ہوئی ہیں ۔ “ یہ حدیث اپنے مخصوص مقام پر آئے گی ، اس کا کچھ حصہ سیدنا آدم علیہ السلام کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے کچھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ، کچھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے متعلق باب میں ہے ۔