مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ مِنَ الْفَضْلِ لِمَرْيَمَ وَآسِيَةَ وَغَيْرِهِمَا باب: سیدہ مریم رضی اللہ عنہا سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15245
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّخْرَةُ صَخْرَةُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ عَلَى نَخْلَةٍ ، وَالنَّخْلَةُ عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، وَتَحْتَ النَّخْلَةِ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ ، يُنْظِمَانِ سُمُوطَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الرُّعَيْنِيُّ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ مُنْكَرَاتِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ پتھر جو بیت المقدس کا پتھر ہے وہ کھجور کے درخت پر ہے ، اور وہ کھجور کا درخت جنت کی نہروں میں سے ایک نہر کے کنارے پر ہو گا اور کھجور کے اس درخت کے نیچے آسیہ بنت مزاحم ہوں گی ، جو فرعون کی اہلیہ ہیں اور مریم بنت عمران ہوں گی اور یہ دونوں قیامت کے دن تک اہل جنت کے ہاروں کو پروتی رہیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلدر عینی ہے اور یہ حدیث اس کے منکرات میں سے ایک ہے ۔