عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : كَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبْيَضَ يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ مَرْبُوعًا ، هُوَ إِلَى الْقِصَرِ أَقْرَبُ ، رَحْبَ الصَّدْرِ ، عَرِيضَ الْمَنْكِبَيْنِ ، إِذَا الْتَقَتِ الْتَفَّتْ جَمِيعًا ، ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : ” سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سفید رنگت کے مالک تھے جو سرخی مائل تھی وہ درمیانے قد کے مالک تھے تاہم وہ کچھ کوتاہ قامت محسوس ہوتے تھے ۔ ان کا سینہ چوڑا تھا ، دونوں کندھے کشادہ تھے جب وہ توجہ کرتے تھے تو مکمل طور پر متوجہ ہو جاتے تھے ۔ ان کے دونوں پاؤں بڑے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : كَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ آدَمَ كَثِيرَ الشِّعْرِ ، لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ ، حَسَنَ الْوَجْهِ ، دَقِيقَ الْعِرْنَيْنِ ، إِذَا مَشَى أَسْرَعَ ، وَكَانَ لَا يُغَيِّرُ شَيْبَةَ ، قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى الْوَاقِدِيِّ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
واقدی بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ گندمی رنگت کے مالک تھے ۔ ان کے بال زیادہ تھے ۔ ان کے بال نہ بالکل گھنگریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے وہ خوبصورت چہرے کے مالک تھے ۔ ان کی ناک پتلی تھی ، جب وہ چلتے تھے تو تیزی سے چلتے تھے ، وہ سفید بالوں پر خضاب نہیں لگاتے تھے ۔ جمادی کے مہینے میں ، سن چھتیس ہجری میں وہ جنگ جمل میں شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور واقدی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور واقدی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔