مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان ان کے نسب کا بیان
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ : طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ . ¤ وَأُمُّهُ : الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ ، وَإِنَّمَا قِيلَ لَهُ : الْحَضْرَمِيُّ ؛ لِأَنَّهُ كَانَ بِبِلَادِ حَضْرَمَوْتَ ، قَتَلَ بِهَا : عَمْرَو بْنَ نَاهِضٍ الْحِمْيَرِيَّ ، ثُمَّ هَرَبَ إِلَى مَكَّةَ فَحَالَفَ حَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ . ¤ وَاسْمُ الْحَضْرَمِيِّ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَكْبَرَ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَرِيفِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ إِيَادِ بْنِ الصَّدِفِ بْنِ حَضْرَمَوْتَ بْنِ قَحْطَانَ مِنْ كِنْدَةَ . ¤ وَالصَّعْبَةُ : أُخْتُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، وَأُمُّهَا عَاتِكَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ابوعبیدہ معمر بن مثنی بیان کرتے ہیں : ( سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا نسب یہ ہے : ) ” سیدنا طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عامر بن كعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ۔ “ ان کی والدہ کا نام صعبہ بنت حضری ہے ان صاحب کے لئے لفظ حضرمی استعمال کیا گیا ہے ، کیونکہ وہ حضرموت کے رہنے والے تھے اور اس علاقے میں انہوں نے عمرو بن ناہض حمیری کو قتل کر دیا تھا ، پھر وہ صاحب بھاگ کر مکہ آ گئے اور وہاں انہوں نے حرب بن امیہ کے ساتھ حلیف ہونے کا معاہدہ کیا ۔ حضرمی نامی صاحب کا نام عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بن اکبر بن بکیر بن عوف بن مالک عریف بن خزرج بن ایاد بن صدف بن حضرموت بن قحطان ہے ، اور وہ کندہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ صعبہ نامی خاتون سیدنا علاء بن حضری کی بہن ہیں اس خاتون کی والدہ کا نام عاتکہ بنت وہب بن عبد بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔