کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اپنی ولایت ( یعنی ذمہ داریوں ) میں ان کی قوت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ ، فَجِئْتَ أَنْتَ فَنَزَعْتَ وَأَنْتَ ضَعِيفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، وَضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ! گزشتہ رات میں نے ( خواب میں ) خود کو دیکھا کہ میں ایک کنویں کے پاس موجود ہوں اور پانی نکال رہا ہوں ، پھر تم آئے اور تم نے پانی نکالنا شروع کیا ، تمہارے اندر کمزوری تھی ، اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ، پھر عمر آیا تو وہ ( پانی کا ڈول ) ایک بڑا ڈول بن گیا ، اور اس نے لوگوں کو بھرپور طریقے سے سیراب کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، جسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، جسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَيْنَا أَنَا أَنْزِعُ اللَّيْلَةَ إِذْ وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَعُفْرٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبِينَ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، فَجَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَمَلَأَ الْحِيَاضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ ; فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ ، فَأَوَّلْتُ السُّودَ : الْعَرَبَ ، وَالْعُفْرَ : الْعَجَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں گزشتہ رات ( خواب میں ) پانی نکال رہا تھا اسی دوران میرے پاس سیاہ رنگ کی اور خاکستری رنگ کی بکریاں آئیں ، پھر ابوبکر آیا ، اس نے ایک ڈول یا دو ڈول نکالے ، اس کے نکالنے میں کمزوری تھی ، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ، پھر عمر آیا ، تو وہ ایک بڑا ڈول بن گیا ، اس نے حوضوں کو بھر دیا ، اور آنے والوں کو سیراب کر دیا ، میں نے پانی نکالنے کے کام میں عمر جیسا محنتی شخص نہیں دیکھا ، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں ، اور خاکستری بکریوں سے مراد عجم ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَبَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكٌ يُسَدِّدُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي وَفَاةِ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : ” ( شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) میں نے جب بھی عمر کو دیکھا ، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا ، جو اسے سیدھی راہ دکھا رہا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول آئے گا ، جو اس کی مانند ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ آگے چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول آئے گا ، جو اس کی مانند ہے ۔