حدیث نمبر: 14446
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنِّي رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ ، فَجِئْتَ أَنْتَ فَنَزَعْتَ وَأَنْتَ ضَعِيفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، وَضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوبکر ! گزشتہ رات میں نے ( خواب میں ) خود کو دیکھا کہ میں ایک کنویں کے پاس موجود ہوں اور پانی نکال رہا ہوں ، پھر تم آئے اور تم نے پانی نکالنا شروع کیا ، تمہارے اندر کمزوری تھی ، اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ، پھر عمر آیا تو وہ ( پانی کا ڈول ) ایک بڑا ڈول بن گیا ، اور اس نے لوگوں کو بھرپور طریقے سے سیراب کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، جسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10243)»