حدیث نمبر: 14444
عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقِيَ الشَّيْطَانُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَارَعَهُ ، فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ ، وَأَزَمَ بِإِبْهَامِهِ ، فَقَالَ : دَعْنِي أُعَلِّمْكَ آيَةً لَا يَسْمَعُهَا أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا وَلَّى ، فَأَرْسَلَهُ ، فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ ، فَصَارَعَهُ ، فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ ، وَأَزَمَّ بِإِبْهَامِهِ [ فَقَالَ : دَعْنِي أُعَلِّمُكَ آيَةً لَا يَسْمَعُهَا أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا وَلَّى ، فَأَرْسَلَهُ ، فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ ، فَعَادَ فَصَرَعَهُ فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ وَأَزَمَّ بِإِبْهَامِهِ ] ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي بِهَا ، فَأَبَى أَنْ يُعْلِمَهُ . فَلَمَّا عَاوَدَهُ الثَّالِثَةَ قَالَ : الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) إِلَى آخِرِهَا ، فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا عُمَرَ .
محمد محی الدین
شقیق بن سلمہ ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب سے شیطان کا سامنا ہوا ، شیطان نے انہیں مقابلے کے لئے کہا: تو مسلمان فرد نے اسے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے کے ذریعے اسے دبایا ، تو شیطان نے کہا: تم مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک آیت کی تعلیم دیتا ہوں ۔ اس آیت کو ہم میں سے جو بھی ( شیطان ) سنے گا ، وہ منہ پھیر کر چلا جائے گا ، مسلمان نے اسے چھوڑ دیا ، تو شیطان نے اس آیت کی تعلیم دینے سے انکار کر دیا ، شیطان نے پھر اسے مقابلے کے لئے کہا: ، مسلمان نے پھر اسے پچھاڑ دیا اور اسے اپنے انگوٹھے کے ذریعے دبایا ، تو شیطان نے کہا: تم مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک آیت کی تعلیم دیتا ہوں ، ہم ( شیاطین ) میں سے جو بھی اسے سنے گا ، وہ منہ پھیر کر چلا جائے گا ، مسلمان نے شیطان کو چھوڑ دیا ، تو شیطان نے پھر اسے تعلیم دینے سے انکار کر دیا ، پھر ایسا ہوا مسلمان نے پھر اسے مقابلہ کرتے ہوئے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے کے ذریعے دبایا اور کہا: تم مجھے اس کے بارے میں بتاؤ ، شیطان نے اس کے بارے میں بتانے انکار کیا ، جب تیسری مرتبہ ایسا ہوا تو شیطان نے بتایا : یہ وہ آیت ہے جو سورت بقرہ میں موجود ہے ، اور وہ یہ ہے : الله لا اله الا هو الْحَيُّ الْقَيُّومُ ( یعنی آیت الکرسی ) یہ پوری آیت ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : اے ابوعبد الرحمن ! وہ مسلمان شخص کون تھا ؟ تو انہوں نے فرمایا : وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 14445
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ : لَقِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْجِنِّ فَصَارَعَهُ ، فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ ، فَقَالَ لَهُ الْجِنِّيُّ : عَاوِدْنِي ، فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ ، فَقَالَ لَهُ الْإِنْسِيُّ : إِنِّي لَأَرَاكَ ضَئِيلًا شَحِيبًا ، كَأَنَّ ذُرَيِّعَتَيْكَ ذُرَيِّعَتَا كَلْبٍ قَالَ : فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ مَعَاشِرَ الْجِنِّ - أَوْ أَنْتَ مِنْهُمْ كَذَلِكَ - قَالَ : لَا وَاللَّهِ إِنِّي مِنْهُمْ لَضَلِيعٌ ، وَلَكِنْ عَاوِدْنِي الثَّالِثَةَ فَإِنْ صَرَعْتَنِي عَلَّمْتُكَ شَيْئًا يَنْفَعُكَ ، فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ ، فَقَالَ : هَاتِ عَلِّمْنِي قَالَ : هَلْ تَقْرَأُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَهَا فِي بَيْتٍ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ ; لَهُ خَبَجٌ كَخَبَجِ الْحِمَارِ ، لَا يَدْخُلُهُ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : فَعَبَسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَنْ يَكُونُ هُوَ إِلَّا عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَكِنَّهُ أَدْرَكَهُ . وَرُوَاةُ الطَّرِيقِ الْأُولَى فِيهِمُ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ فَبَانَ لَنَا صِحَّةُ رِوَايَةِ الْمَسْعُودِيِّ بِرِوَايَةِ الشَّعْبِيِّ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا سامنا ایک جنّ سے ہوا ، جنّ نے انہیں مقابلے کی دعوت دی تو انسان نے اسے پچھاڑ دیا ، جنّ نے اس انسان سے کہا: تم دوبارہ میرے ساتھ مقابلہ کرو ، اس نے دوبارہ مقابلہ کیا تو انسان نے پھر اسے پچھاڑ دیا ، انسان نے اس سے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم ایک کمزور اور نحیف فرد ہو ، اور تمہاری کلائیاں کتے کے بازؤں کی طرح ہیں ، تو کیا تم جنات اسی طرح ہوتے ہو ؟ راوی کو یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں شک ہے ، تو اس جن نے کہا: جی نہیں ! میں ان میں ایک طاقتور فرد ہوں ، تم پھر تیسری مرتبہ میرے ساتھ مقابلہ کرو ، اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا ، تو میں تمہیں ایک ایسی چیز کی تعلیم دوں گا جو تمہیں نفع دے گی ، اس نے پھر اس شخص کے ساتھ مقابلہ کیا ، اس شخص نے اس جن کو پچھاڑ دیا اور پھر کہا: اب تم مجھے اس کی تعلیم دو ، جنّ نے دریافت کیا : کیا تم آیت الکرسی پڑھتے ہو ( یا تمہیں آیت الکرسی آتی ہے ؟ ) اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ، تو جن نے کہا: تم جس بھی گھر میں اس کو پڑھ لو گے ، تو شیطان اس گھر سے نکل جائے گا ، اس طرح نکلے گا کہ اس کی یوں ہوا خارج ہو رہی ہو گی ، جس طرح گدھے کی ہوا خارج ہوتی ہے ، اور وہ ( شیطان ) صبح ہونے تک اس گھر میں داخل نہیں ہو گا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے ابوعبد الرحمن وہ صاحب جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے وہ کون تھے ؟ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ماتھے پر بل ڈالے ، اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، دوسری روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، تاہم انہوں نے ان کا زمانہ پایا ہے ، پہلی روایت کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، تاہم ہمارے سامنے شعبی کی روایت کے ذریعے مسعودی کی روایت کا صحیح ہونا واضح ہو جاتا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔