کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ان افراد کا بیان ، جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ عِشْرُونَ شَابًّا مِنَ الْأَنْصَارِ يَلْزَمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَوَائِجِهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَمْرًا بَعَثَهُمْ فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے بیس نوجوان ایسے تھے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے ، تاکہ آپ کے کام کریں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے ، تو اس کام کے سلسلے میں اُن لوگوں کو ( یا ان میں سے کسی کو ) بھیج دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَانَ لَا يُفَارِقُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةٌ ، أَوْ أَرْبَعَةٌ ، مِنْ أَصْحَابِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ یا چار افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سے جدا نہیں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، أَوْ يُرْسِلُنَا فِي الْأَمْرِ فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَصْحَابُ النُّوَبِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ النَّجْوَى ؟ ! أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے رہتے تھے ، تاکہ آپ کو کوئی کام ہو ، یا آپ نے ہمیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجنا ہو ، تو ایسا ہو جائے ، تو بعض اوقات اپنی باری کا انتظار کرنے والے لوگ زیادہ ہو جاتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم دجال کا ذکر کر رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں سرگوشی میں بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ؟
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، أَوْ أَبَا ذَرٍّ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَبِيتَ عَلَى بَابِهِ يُوقِظُنِي لِحَاجَتِهِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَبِتُّ لَيْلَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن سفیان بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ، یا شاید سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر رات گزارتا ہوں ، تاکہ آپ کو کسی کام کے سلسلے میں ضرورت ہو تو مجھے بیدار کر دیں ، تو آپ نے مجھے اجازت دیدی ، اور میں نے وہاں رات گزاری ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔