کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ان افراد کا بیان ، جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے
❮
❯
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ عِشْرُونَ شَابًّا مِنَ الْأَنْصَارِ يَلْزَمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَوَائِجِهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَمْرًا بَعَثَهُمْ فِيهِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے بیس نوجوان ایسے تھے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے ، تاکہ آپ کے کام کریں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے ، تو اس کام کے سلسلے میں اُن لوگوں کو ( یا ان میں سے کسی کو ) بھیج دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2445) ، أخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2230، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 7511»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَانَ لَا يُفَارِقُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةٌ ، أَوْ أَرْبَعَةٌ ، مِنْ أَصْحَابِهِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ یا چار افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سے جدا نہیں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2446) ، أخرجه مسند البزار برقم: 1006»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، أَوْ يُرْسِلُنَا فِي الْأَمْرِ فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَصْحَابُ النُّوَبِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ النَّجْوَى ؟ ! أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى ؟ ! " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے رہتے تھے ، تاکہ آپ کو کوئی کام ہو ، یا آپ نے ہمیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجنا ہو ، تو ایسا ہو جائے ، تو بعض اوقات اپنی باری کا انتظار کرنے والے لوگ زیادہ ہو جاتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم دجال کا ذکر کر رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں سرگوشی میں بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ؟
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2447) ، أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4204، وأخرجه مسند أحمد برقم: 10859»
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، أَوْ أَبَا ذَرٍّ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَبِيتَ عَلَى بَابِهِ يُوقِظُنِي لِحَاجَتِهِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَبِتُّ لَيْلَةً .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
عاصم بن سفیان بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو ، یا شاید سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر رات گزارتا ہوں ، تاکہ آپ کو کسی کام کے سلسلے میں ضرورت ہو تو مجھے بیدار کر دیں ، تو آپ نے مجھے اجازت دیدی ، اور میں نے وہاں رات گزاری ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14237
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2448) ، أخرجه مسند البزار برقم: 4054»