کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی بیماری اور آپ ﷺ کی وفات کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس حوالے سے مطلع کر دیا تھا
حدیث نمبر: 14238
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ ، خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِيهِ ، وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " يَا مُعَاذُ ، إِنَّكَ عَسَى أَلَّا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا ، وَقَبْرِي " . فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا ; لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ ، مَنْ كَانُوا ، وَحَيْثُ كَانُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا : عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّ مُعَاذًا ، وَقَالَ وَفِيهَا : قَالَ : " لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ ، الْبُكَاءُ - أَوْ إِنَّ الْبُكَاءَ - مِنَ الشَّيْطَانِ " . وَرِجَالُ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ نکلے ، آپ انہیں تلقین کر رہے تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے ، جب آپ گفتگو کر کے فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! ہو سکتا ہے اس سال کے بعد ہماری ملاقات نہ ہو ، ہو سکتا ہے کہ تمہارا گزر میری اس مسجد سے اور میری قبر کے پاس سے ہو ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کی پریشانی کی وجہ سے رو پڑے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ پھیرا ، آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” میرے سب سے زیادہ قریب لوگ پرہیزگار ہوں گے ، خواہ وہ جو بھی ہوں ، اور جہاں بھی ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، انہوں نے ایک سند میں یہ کہا: ہے : عاصم بن حمید کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات روایت کی ہے ، اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اے معاذ ! تم نہ روؤ ! کیونکہ رونا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ دونوں اسناد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف راشد بن سعد اور عاصم بن حمید کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (121/20) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (235/5)»
حدیث نمبر: 14239
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : " نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مِينَاءُ بْنُ أَبِي مِينَاءَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات جب جنات کے وفد نے حاضر ہونا تھا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ واپس تشریف لائے ، تو آپ گہرے سانس لے رہے تھے ، میں نے عرض کی : آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے میری وفات کی اطلاع دی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میناء بن ابومیناء ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14239
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9970) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4294)»
حدیث نمبر: 14240
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " . بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی : ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے میرے انتقال کی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی اس بات کی اطلاع کہ اسی سال آپ کا انتقال ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1873)»
حدیث نمبر: 14241
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ قَالَ : نُعِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسُهُ حِينَ نَزَلَتْ ، فَأَخَذَ بِأَشَدِّ مَا كَانَ قَطُّ اجْتِهَادًا فِي أَمْرِ الْآخِرَةِ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ : " جَاءَ الْفَتْحُ ، وَجَاءَ نَصْرُ اللَّهِ ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَهْلُ الْيَمَنِ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ رَقِيقَةٌ أَفْئِدَتُهُمْ ، لَيِّنَةٌ قُلُوبُهُمْ ، الْإِيمَانُ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَزَادَ : " وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ انہوں نے اسے پورا پڑھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال کی اطلاع دی گئی تھی ، جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخرت کے معاملے کے حوالے سے بہت زیادہ عبادت کرنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا : فتح آ گئی ہے ، اور اللہ کی مدد آ گئی ہے ، اور اہل یمن آ گئے ہیں ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل یمن کیسے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے دل نرم ہیں اور مہربان ہیں ، اور ایمان اور سمجھ بوجھ یمانی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دانائی یمنی ہے ۔ “ ان کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14241
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11903)»
حدیث نمبر: 14242
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " . فَبَكَتْ ، فَقَالَ لَهَا : " لَا تَبْكِي ; فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي " . فَضَحِكَتْ ، فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : رَأَيْتُكِ بَكَيْتِ وَضَحِكْتِ ؟ ! فَقَالَتْ : إِنَّهُ قَالَ لِي : " قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي " . فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : " لَا تَبْكِي ; فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي " . فَضَحِكْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا : مجھے میرے وصال کی اطلاع دے دی گئی ہے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ میرے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آ کے ملو گی ، تو وہ ہنسنے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے دیکھا ، تو کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پہلے روئیں اور پھر ہنسنے لگیں ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا ہے کہ مجھے میرے وصال کی اطلاع دی گئی ہے ، تو میں رونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ میرے اہل خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے ملو گی ، تو میں ہنس پڑی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14242
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (887) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11907)»
حدیث نمبر: 14243
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَاكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " . فَقَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ بِأَمْرٍ " . فَقَرَأَ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وصال سے پہلے بکثرت یہ پڑھا کرتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے ، آپ بکثرت یہ پڑھتے ہیں : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ، پھر آپ نے یہ سورت پڑھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14243
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (677)»
حدیث نمبر: 14244
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ : " هَذَا مَا وَعَدَنِي بِهِ رَبِّي " . ثُمَّ قَرَأَ : ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) قَالَ : " فَإِذَا دَخَلَ النَّاسُ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ، فَظَهَرَ دِينُ اللَّهِ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ، فَالنَّاسُ خَيْرٌ ، وَنَحْنُ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ چیز ہے جس کا میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھی : ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب لوگ اللہ کے دین میں گروہوں کی شکل میں داخل ہو گئے اور اللہ کا دین باقی تمام ادیان پر غالب آ گیا ، تو اب لوگ بھی بہتر ہیں اور ہم بھی بہتر ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14244
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14245
وَعَنْ عَائِشَةَ : إِنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ قَالَ لِفَاطِمَةَ : " يَا بُنَيَّةُ احْنِي عَلَيَّ فَأَحْنَتْ عَلَيْهِ فَنَاجَاهَا سَاعَةً ثُمَّ انْكَشَفَتْ وَهِيَ تَبْكِي وَعَائِشَةُ حَاضِرَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَاعَةٍ : احْنِي عَلَيَّ يَا بُنَيَّةُ فَأَحْنَتْ عَلَيْهِ فَنَاجَاهَا سَاعَةً ثُمَّ انْكَشَفَتْ عَنْهُ فَضَحِكَتْ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : أَيْ بُنَيَّةُ أَخْبِرِينِي مَاذَا نَاجَاكِ أَبُوكِ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : نَاجَانِي عَلَى حَالِ سِرٍّ ، ظَنَنْتِ أَنِّي أُخْبِرُ بِسِرِّهِ وَهُوَ حَيٌّ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ أَنْ يَكُونَ سِرًّا دُونَهَا ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ قَالَتْ عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ : يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُخْبِرِينِي بِذَلِكَ الْخَبَرِ ، قَالَتْ : أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ ، نَاجَانِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى فَأَخْبَرَنِي " أَنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِالْقُرْآنِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ . وَأَخْبَرَنِي : أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا عَاشَ نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ . وَأَخْبَرَنِي : أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ ، وَلَا أُرَانِي إِلَّا ذَاهِبًا عَلَى رَأْسِ السِّتِّينَ " . فَأَبْكَانِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةٌ أَعْظَمُ رَزِيَّةً مِنْكِ ، فَلَا تَكُونِي أَدْنَى مِنَ امْرَأَةٍ صَبْرًا " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ أَيْضًا ، وَفِي رِجَالِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جس بیماری کے دوران وصال ہوا ، اس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے میری بیٹی ! میرے پاس آ جاؤ ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، جب وہ پیچھے ہٹیں تو وہ رو رہی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں ، پھر اس کے کچھ دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میری بیٹی میرے پاس آ جاؤ ! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان سے کوئی بات کی ، پھر وہ پیچھے ہٹیں ، تو وہ ہنس رہی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: اے میری بیٹی ! تم مجھے بتاؤ کہ تمہارے والد نے تمہارے ساتھ سرگوشی میں کیا بات چیت کی ہے ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انہوں نے میرے ساتھ ایک راز کی بات کی ہے ، تو کیا آپ یہ سمجھتی ہیں کہ میں ان کی زندگی میں ان کے راز کے بارے میں بتا دوں گی ؟ یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گراں گزری کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بجائے کسی اور کے ساتھ راز کی بات کی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے میری بیٹی ! کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گی ؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں اب ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ مجھے سرگوشی میں یہ بتایا کہ جبرائیل ہر سال ایک مرتبہ آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے ، اس سال انہوں نے دو مرتبہ میرے ساتھ دور کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ جبرائیل نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جو بھی نبی زندہ رہتا ہے ، وہ اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر تک رہتا ہے ، اور انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک سو بیس سال تک زندہ رہے تھے ، تو اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ ساٹھ سال کی عمر میں میرا انتقال ہو جائے گا ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ) تو اس بات پر مجھے رونا آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! مسلمانوں کی خواتین میں کوئی خاتون ایسی نہیں ہے کہ جس کو تم سے زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا کرنا ہو ، تو تم صبر کرنے کے حوالے سے کسی عورت سے کم نہ ہونا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14245
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (846) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (416/22)»