حدیث نمبر: 14236
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، أَوْ يُرْسِلُنَا فِي الْأَمْرِ فَيَكْثُرُ الْمُحْتَسِبُونَ وَأَصْحَابُ النُّوَبِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ النَّجْوَى ؟ ! أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنِ النَّجْوَى ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم باری باری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے رہتے تھے ، تاکہ آپ کو کوئی کام ہو ، یا آپ نے ہمیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجنا ہو ، تو ایسا ہو جائے ، تو بعض اوقات اپنی باری کا انتظار کرنے والے لوگ زیادہ ہو جاتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم دجال کا ذکر کر رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں سرگوشی میں بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ؟
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2447)»