حدیث نمبر: 14209
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ، فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ ، فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ قَالَ : أَفَمَلِكًا نَبِيًّا أَجْعَلُكَ ، أَوْ عَبْدًا رَسُولًا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ : تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ : بَلْ عَبْدًا رَسُولًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ الْأَوَّلَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا ، ایک فرشتہ اتر رہا تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یہ فرشتہ جب سے پیدا ہوا ہے ، آج سے پہلے کبھی نیچے نہیں اترا ، جب وہ نیچے اتر آیا ، تو اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کے پروردگار نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے اور فرمایا ہے : کیا میں آپ کو ” بادشاہ “ نبی بناؤں یا ” عبد “ رسول بناؤں ؟ سیدنا جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے تواضع اختیار کیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ ” عبد “ رسول ( میں بننا چاہتا ہوں ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور پہلی روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور پہلی روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14210
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِي جِبَالُ الذَّهَبِ ، جَاءَنِي مَلَكٌ إِنَّ حُجْزَتَهُ لَتُسَاوِي الْكَعْبَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ لَكَ : إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا ؟ قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ قَالَ : فَأَشَارَ إِلَيَّ : أَنْ ضَعْ نَفْسَكَ قَالَ : فَقُلْتُ : نَبِيًّا عَبْدًا " . ¤ قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَأْكُلُ مُتَّكِئًا ، يَقُولُ : " آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ ، وَأَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! اگر میں چاہوں ، تو پہاڑ میرے ساتھ سونے کے بن کے چلیں ، میرے پاس ایک فرشتہ آیا , جس کا ڈب ، خانہ کعبہ جتنا تھا ، اس نے کہا: آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور آپ سے یہ فرمایا ہے : اگر آپ چاہیں ، تو آپ ” عبد “ نبی بن جائیں اور اگر آپ چاہیں تو ” بادشاہ “ نبی بن جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو انہوں نے مجھے یہ اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو میں نے کہا: ” عبد“ نبی ( میں ، بننا چاہوں گا ) ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے ، آپ یہ فرماتے تھے : میں اس طرح کھاؤں گا ، جس طرح کوئی عبد کھاتا ہے ، اور اس طرح بیٹھوں گا ، جس طرح کوئی عبد بیٹھتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14211
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَقَدْ هَبَطَ عَلَيَّ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا هَبَطَ عَلَى نَبِيٍّ قَبْلِي ، وَلَا يَهْبِطُ عَلَى أَحَدٍ بَعْدِي ، وَهُوَ إِسْرَافِيلُ ، وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ، أَنَا رَسُولُ رَبِّكَ إِلَيْكَ ، أَمَرَنِي أَنْ أُخَيِّرَكَ إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا ؟ فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ : أَنْ تَوَاضَعْ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ : " لَوْ أَنِّي قُلْتُ : نَبِيًّا مَلِكًا ; لَسَارَتِ الْجِبَالُ مَعِي ذَهَبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابْلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا ، وہ مجھ سے پہلے کسی نبی پر نازل نہیں ہوا تھا ، اور میرے بعد بھی کسی پر نازل نہیں ہو گا ، اور وہ اسرافیل علیہ السلام ہے ، اس کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام بھی تھے ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو سلام ہو ، میں آپ کے پروردگار کا آپ کی طرف قاصد ہوں ، اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو یہ اختیار دوں کہ اگر آپ چاہیں تو ” عبد “ نبی بن جائیں ، اور اگر چاہیں تو ” بادشاہ “ نبی بن جائیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا ، تو جبرائیل علیہ السلام نے مجھے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ! تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر میں یہ کہہ دیتا کہ میں ” بادشاہ “ نبی بنوں گا ، تو پہاڑوں نے ” سونے “ کا ہو کر میرے ساتھ چلنا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14212
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يُنَاجِيهِ ، إِذِ انْشَقَّ أُفُقُ السَّمَاءِ ، فَأَقْبَلَ جِبْرِيلُ يَدْنُو مِنَ الْأَرْضِ وَيَتَمَايَلُ ، فَإِذَا مَلَكٌ قَدْ مَثُلَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، يَأْمُرُكَ رَبُّكَ أَنْ تَخْتَارَ بَيْنَ نَبِيٍّ عَبْدٍ أَوْ مَلِكٍ نَبِيٍّ ؟ فَأَشَارَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ بِيَدِهِ : أَنْ تَوَاضَعْ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لِي نَاصِحٌ ، فَقُلْتُ : عَبْدٌ نَبِيٌّ ، فَعَرَجَ ذَلِكَ الْمَلَكُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا ، فَرَأَيْتُ مِنْ حَالِكَ مَا شَغَلَنِي عَنِ الْمَسْأَلَةِ ، فَمَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا إِسْرَافِيلُ خَلَقَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَافًّا قَدَمَيْهِ ، لَا يَرْفَعُ طَرْفَهُ ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّبِّ سَبْعُونَ نُورًا ، مَا مِنْهَا نُورٌ يَكَادُ يَدْنُو مِنْهُ إِلَّا احْتَرَقَ ، بَيْنَ يَدَيْهِ لَوْحٌ ، فَإِذَا أَذِنَ اللَّهُ فِي شَيْءٍ فِي السَّمَاءِ أَوْ فِي الْأَرْضِ ارْتَفَعَ ذَلِكَ فَضَرَبَ جَبْهَتَهُ فَيَنْظُرُ ، فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ عَمَلِي أَمَرَنِي بِهِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِ مِيكَائِيلَ أَمَرَهُ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ عَمَلِ مَلَكِ الْمَوْتِ أَمَرَهُ بِهِ . قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، عَلَى أَيِّ شَيْءٍ أَنْتَ ؟ قَالَ : عَلَى الرِّيحِ وَالْجُنُودِ . قُلْتُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مِيكَائِيلُ ؟ قَالَ : عَلَى النَّبَاتِ وَالْقَطْرِ . قُلْتُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ مَلَكُ الْمَوْتِ ؟ قَالَ : عَلَى قَبْضِ الْأَنْفُسِ ، وَمَا ظَنَنْتُهُ إِلَّا لِقِيَامِ السَّاعَةِ . وَمَا الَّذِي رَأَيْتَ مِنِّي إِلَّا خَوْفًا مِنْ قِيَامِ السَّاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَكِنَّهُ سَيِّئُ الْحِفْظِ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے ، وہ آپ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران آسمان کا افق کھل گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام زمین کی طرف قریب ہونے لگے اور اِدھر اُدھر مائل ہونے لگے ، تو اسی دوران ایک فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کے پروردگار نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ آپ ” عبد “ نبی بننے ، یا ” بادشاہ “ نبی بننے کے درمیان کسی ایک صورت کو اختیار کر لیں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، مجھے علم تھا کہ وہ میرے خیرخواہ ہیں ، میں نے کہا: ” عبد “ نبی بننا چاہوں گا ، تو وہ فرشتہ آسمان کی طرف بلند ہوا ، میں نے کہا: اے جبرائیل ! میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ تم سے اس بارے میں دریافت کروں ، تو تمہاری صورت حال جو میں نے دیکھی ، تو اس وجہ سے میں پوچھ نہیں پایا ، اے جبرائیل ! یہ کون تھا ؟ تو جبرائیل نے بتایا کہ یہ سیدنا اسرافیل علیہ السلام تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دن پیدا کیا تھا ، جب اس نے انہیں پیدا کیا تھا ، تو انہیں اپنے آگے پیدا کیا تھا ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر بھی آگے نہیں دیکھا ، ان کے اور ان کے پروردگار کے درمیان ستر نور ہیں ، ان میں سے ہر ایک نور ایسا ہے کہ اگر اس کے قریب ہونے کی کوشش کی جائے ، تو آدمی جل جائے ، ان کے آگے لوح ہے ، جب اللہ تعالیٰ آسمان میں یا زمین میں کسی چیز کے بارے میں کوئی حکم دیتا ہے ، تو یہ بلند ہوتے ہیں اور اپنی پیشانی ہلا کے دیکھتے ہیں ، اگر وہ کام مجھ سے متعلق ہوتا ہے ، تو مجھے اس کی ہدایت دیتے ہیں ، اور اگر وہ میکائیل سے متعلق ہوتا ہے ، تو اسے اس کی ہدایت دیتے ہیں ، اگر وہ ملک الموت سے متعلق کوئی کام ہوتا ہے ، تو اسے ہدایت دیتے ہیں ، میں نے کہا: اے جبرائیل ! تم کس چیز پر مقرر ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : ہوا پر اور جنود پر ، میں نے کہا: میکائیل کس چیز پر مقرر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نباتات پر اور بارش پر ، میں نے دریافت کیا : ملک الموت کس چیز پر مقرر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جان قبض کرنے پر ، اور ان کے بارے میں ( یعنی اسرافیل کے بارے میں ) میرا یہ خیال ہے کہ وہ قیامت قائم کرنے پر مقرر ہیں ، اور آپ نے جو میری صورت حال دیکھی تھی ، وہ اس خوف سے تھی کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14213
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ : إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَعَ الْمَلَكِ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ الْمَلَكُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا أَوْ نَبِيًّا مَلِكًا ؟ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَالْمُسْتَشِيرِ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ : أَنْ تَوَاضَعْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا " . فَمَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مُتَّكِئًا حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک فرشتے کو سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ بھیجا ، اس فرشتے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ یا آپ ” عبد “ نبی بن جائیں یا ” بادشاہ “ نبی بن جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف توجہ کی ، جیسے ان سے مشورہ لے رہے ہوں ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں ” عبد “ نبی بننا چاہوں گا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، یہاں تک کہ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 14214
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو آپ نے آخرت کو اختیار کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14215
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے دنیا کی چابیاں ، ایک ابلق گھوڑے ( جس کے رنگ میں سیاہ اور سفید رنگ ہو ) پر رکھ کر پیش کی گئیں ، جس پر سندس کا بنا ہوا کپڑا موجود تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14216
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : كَانَ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقُرْآنَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ ، وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ ، وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ ، وَلَا يَأْنَفُ ، وَلَا يَسْتَكْبِرُ أَنْ يَذْهَبَ مَعَ الْمِسْكِينِ وَالضَّعِيفِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوغالب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ، قرآن ہی ہوتا تھا ، آپ بکثرت ذکر کرتے تھے ، مختصر خطبہ دیتے تھے طویل نماز ادا کرتے تھے اور کسی غریب کے ساتھ یا کمزور کے ساتھ چل کر جانے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے ( اور اس وقت تک اس کے ساتھ رہتے تھے ) یہاں تک کہ وہ ( غریب شخص ) اپنی حاجت سے فارغ ہو جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14217
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْكَبُ حِمَارًا اسْمُهُ : عُفَيْرٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار ہوتے تھے ، اس کا نام ” عفیر “ تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 14218
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارٌ اسْمُهُ : عُفَيْرٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گدھا تھا ، جس نام ” عفیر “ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14219
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُ الْحِمَارَ ، وَيَلْبَسُ الصُّوفَ ، وَيَعْتَقِلُ الشَّاةَ ، وَيَأْتِي مُرَاعَاةَ الضَّيْفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو جاتے تھے ، اونی کپڑا پہن لیتے تھے ، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور خود مہمان کی دیکھ بھال کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14220
وَعَنْ جَرِيرٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ رِعْدَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَوِّنْ عَلَيْكَ ; فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَتْ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا ، تو اُس پر کپکپی طاری ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آرام سے رہو ! میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں ، میں قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا بیٹا ہوں ، جو ” قدید “ کھایا کرتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14221
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي لَيَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنِصْفِ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ فَيُجِيبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بعض اوقات نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص نصف رات کے وقت جَو کی روٹی کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14222
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : يَجْلِسُ عَلَى الْأَرْضِ ، وَيَأْكُلُ عَلَى الْأَرْضِ ، وَيَعْقِلُ الشَّاةَ ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تشریف فرما ہو جاتے تھے ، زمین پر بیٹھ کر کھا لیتے تھے ، آپ بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جَو کی روٹی کے بارے میں ، غلاموں کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14223
وَعَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں کی دعوت بھی قبول کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14224
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ عَنْ شَيْخِهِ جُبَارَةَ بْنِ الْمُغَلِّسِ وَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ پکار کر بلایا ، ہر مرتبہ آپ اسے یہی جواب دیتے رہے : کہ میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اپنے استاد جبارہ بن مغلس کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14225
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَمْشِي فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَتَسَتَّرَ بِثَوْبٍ ، فَلَمَّا رَأَى ظِلَّهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا هُوَ بِمُلَاءَةٍ قَدْ سُتِرَ بِهَا ، فَقَالَ لَهُ : " مَهْ ! " . وَأَخَذَ الثَّوْبَ فَوَضَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مَثَلُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جبیر خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے درمیان چل رہے تھے ، آپ کے لئے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ کیا گیا ، جب آپ نے اس کے سائے کو ملاحظہ کیا ، تو سر اُٹھا کے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ کپڑا ہے ، جس کے ذریعے آپ پر پردہ کیا گیا ہے ( تاکہ آپ کو دھوپ نہ لگے ) تو آپ نے فرمایا : رک جاؤ ! آپ نے وہ کپڑا لیا اور اسے رکھ دیا اور پھر یہ فرمایا : میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14226
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَارَةَ الطَّاحِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ایک بندہ ہوں ، اور اسی طرح کھاتا ہوں ، جس طرح کوئی بندہ کھاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمارہ طلحی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمارہ طلحی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14227
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَتِ امْرَأَةٌ تُرَافِثُ الرِّجَالَ ، وَكَانَتْ بَذِيئَةً ، فَمَرَّتْ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَأْكُلُ ثَرِيدًا عَلَى طِرْبَالٍ ، فَقَالَتِ : انْظُرُوا إِلَيْهِ يَجْلِسُ كَمَا يَجْلِسُ الْعَبْدُ ، وَيَأْكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَيُّ عَبْدٍ أَعْبَدُ مِنِّي ؟ " . قَالَتْ : وَيَأْكُلُ وَلَا يُطْعِمُنِي . قَالَ : " فَكُلِي " . قَالَتْ : نَاوِلْنِي بِيَدِكَ . فَنَاوَلَهَا ، فَقَالَتْ : أَطْعِمْنِي مِمَّا فِي فِيكَ . فَأَعْطَاهَا فَأَكَلَتْ ، فَغَلَبَهَا الْحَيَاءُ فَلَمْ تُرَافِثْ أَحَدًا حَتَّى مَاتَتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون مردوں کے ساتھ جھگڑا کیا کرتی تھی وہ بدزبان خاتون تھی ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ثرید کھا رہے تھے ، اس نے کہا: ان کی طرف دیکھو ! یہ اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح کوئی غلام بیٹھتا ہے ، اور اس طرح کھا رہے ہیں ، جس طرح کوئی غلام کھاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے بڑا بندہ اور کون ہو گا ؟ اس خاتون نے کہا: یہ خود کھا رہے ہیں ، اور مجھے کھانے کے لئے نہیں دے رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی کھا لو ، اس نے کہا: آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے مجھے پکڑائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑایا ، تو اس نے کہا: آپ اس میں سے مجھے کھانے کے لئے دیں ، جو آپ کے منہ میں ہے ، آپ نے وہ ( لقمہ ) اس کو دے دیا تو اس نے وہ کھا لیا ، پھر اس عورت پر حیاء غالب ہو گئی ، اس کے بعد وہ مرتے دم تک کسی سے نہیں لڑی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14228
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : أَحِبُّونَا بِحُبِّ الْإِسْلَامِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَرْفَعُونِي فَوْقَ حَقِّي ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى اتَّخَذَنِي عَبْدًا قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَنِي رَسُولًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسلام سے محبت کی وجہ سے ، تم ہم سے محبت رکھو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تم مجھے میرے حق سے بلند نہ کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ” بندہ “ بنایا ہے ، اس سے پہلے کہ اس نے مجھے ” رسول “ بنایا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14229
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَاخْتَلَفَ كَلَامُ ابْنِ مَعِينٍ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ایک پائے کے لئے مجھے دعوت دی جائے ، تو میں وہ ( دعوت ) قبول کر لوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس کے بارے میں یحیی بن معین کا کلام مختلف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس کے بارے میں یحیی بن معین کا کلام مختلف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14230
وَعَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ جَالِسًا مُتَرَبِّعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں نے آپ کو چار زانوں بیٹھے ہوئے دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14231
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشَى عَنْ زَمِيلٍ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر کے ساتھی کے ساتھ ( اپنی باری آنے پر ) پیدل بھی چلا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14232
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَانْقَطَعَ شِسْعُهُ ، فَأَخَذْتُ نَعْلَهُ لِأُصْلِحَهَا ، فَأَخَذَهَا مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : " إِنَّهَا أَثَرَةٌ ; وَلَا أَحِبُّ الْأَثَرَةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ ہی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں جانے کے لئے نکلا ، آپ کا تسمہ ٹوٹ گیا ، میں نے آپ کا تسمہ لیا ، تاکہ میں ٹھیک کروں ، تو آپ نے میرے ہاتھ سے وہ لے لیا اور فرمایا : یہ ترجیحی سلوک ہے ، میں ترجیحی سلوک کو پسند نہیں کرتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14233
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ الْعَبَّاسُ : قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا يُظِلُّكَ ؟ قَالَ : " لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي ، وَيُنَازِعُونَ رِدَائِي ، حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ يُرِيحُنِي مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کتنا عرصہ باقی رہیں گے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کوئی عریش ( چھت والی جگہ ) بنا لیں ، جو آپ پر سایہ کیا کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں لوگوں کے درمیان رہوں گا ، وہ میری ایڑی پر پاؤں ماریں ، میری چادر کو کھینچیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن سے نجات دلا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔