حدیث نمبر: 14096
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَمِيسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ بِالصَّهْبَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ عَلِيًّا فِي حَاجَةٍ ، فَرَجَعَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَنَامَ ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ عَلِيًّا احْتَبَسَ بِنَفْسِهِ عَلَى نَبِيِّهِ فَرُدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ " . قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى الْجِبَالِ وَعَلَى الْأَرْضِ ، وَقَامَ عَلِيٌّ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ غَابَتْ فِي ذَلِكَ بِالصَّهْبَاءِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” صہباء “ کے مقام پر ظہر کی نماز ادا کی ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیا ، جب وہ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھا اور سو گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں کی ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تیرا بندہ علی ، اس نے اپنے آپ کو اپنے نبی کے لئے روک کے رکھا ہوا تھا ، تو اس کے لئے سورج کو لوٹا دے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو سورج دوبارہ طلوع ہو گیا ، یہاں تک کہ وہ پہاڑوں اور زمین پر آ کے ٹھہر گیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے انہوں نے وضو کیا ، نماز ادا کی ، پھر اس کے بعد سورج صہباء میں غروب ہوا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14096
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (144/24)»