حدیث نمبر: 14098
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْسٌ فَدَفَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ يَوْمَ أُحُدٍ فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى انْدَقَّتْ سِنَّتُهَا وَلَمْ أَزُلْ عَنْ مَقَامِي نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي ، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيَّلْتُ وَجْهِي وَرَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيهِ ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا نَدَرَتْ مِنْهُ حَدَقَتِي عَلَى خَدِّي وَافْتَرَقَ الْجَمْعُ ، فَأَخَذْتُ حَدَقَتِي بِكَفِّي فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدِّهِمَا نَظَرًا " . فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدِّهِمَا نَظَرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَلَفْظُهُ : عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّهُ أُصِيبَتْ عَيْنُهُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَسَالَتْ حَدَقَتُهُ عَلَى وَجْنَتِهِ ، فَأَرَادُوا أَنْ يَقْطَعُوهَا ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا " . فَدَعَا بِهِ فَغَمَزَ حَدَقَتَهُ بِرَاحَتِهِ ، فَكَانَ لَا يَدْرِي أَيُّ عَيْنَيْهِ أُصِيبَتْ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کمان تحفے کے طور پر دی گئی ، غزوہ احد کے موقع پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیدی ، میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو کر تیر اندازی کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس کے دونوں کنارے گھس گئے ، اور میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جما رہا ، میں آنے والے تیروں کا خود سامنا کرتا تھا ، جب ان میں سے کوئی تیر دائیں بائیں ہوتا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگتا تھا ، تو میں چہرے اور سر کو اس طرح کر دیتا تھا ، تاکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو بچا لوں ، اس دوران میں تیر نہیں مار رہا تھا ، ان میں سے جو آخری تیر تھا ، وہ مجھے لگا اور میرا ڈھیلا نکل کر رخسار پر آ گیا ، میں نے اپنا ڈھیلا پکڑا اور اسے لے کر دوڑتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ کیا ، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “” “” اے اللہ ! قتادہ نے اپنے چہرے کے ذریعے تیرے نبی کو بچایا ہے ، تو اس کی آنکھیں زیادہ بہتر کر دے ، اور اس کی نظر زیادہ تیز کر دے ۔ “ راوی کہتے ہیں : اُن کی آنکھیں زیادہ خوبصورت تھیں ، اور ان کی نظر زیادہ تیز تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” سیدنا قتاده بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ان کی آنکھ زخمی ہو گئی اور ان کا ڈھیلا نکل کر رخسار پر آ گیا ، لوگوں نے اسے کاٹنے کا ارادہ کیا ، لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! پھر آپ نے نہیں بلایا اور اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ڈھیلے کو واپس رکھا ، تو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ ان کی کون سی آنکھ زخمی ہوئی تھی ؟ امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” سیدنا قتاده بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ان کی آنکھ زخمی ہو گئی اور ان کا ڈھیلا نکل کر رخسار پر آ گیا ، لوگوں نے اسے کاٹنے کا ارادہ کیا ، لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! پھر آپ نے نہیں بلایا اور اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ڈھیلے کو واپس رکھا ، تو یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ ان کی کون سی آنکھ زخمی ہوئی تھی ؟ امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14099
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : أُصِيبَتْ عَيْنُ أَبِي ذَرٍّ يَوْمَ أُحُدٍ فَبَزَقَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَتْ أَصَحَّ عَيْنَيْهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن حارث بن عبیدہ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی آنکھ زخمی ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں لعاب دہن ڈالا ، تو وہ دونوں آنکھوں میں زیادہ ٹھیک ہو گئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14100
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ سَلَامَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّ خَالَهَا حَبِيبُ بْنُ فُرَيْكًا حَدَّثَهَا أَنَّ أَبَاهَا خَرَجَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَيْنَاهُ مُبْيَضَّتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا ، فَسَأَلَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ : كُنْتُ أُمَرِّي جِمَالِي ، فَوَقَعَتْ رِجْلِي عَلَى بَيْضِ حَيَّةٍ فَأُصِبْتُ بِبَصَرِي ، فَنَفَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَيْنَيْهِ فَأَبْصَرَ ، فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الْإِبْرَةِ وَإِنَّهُ لَابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبْيَضَّتَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ رِفَاعَةَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ مِنْ طَرِيقِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سلامان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : اُن کے ماموں حبیب بن فریق نے انہیں یہ بات بتائی ہے : ” اس خاتون کے والد ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے ، ان صاحب کی دونوں آنکھیں سفید تھیں اور وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : کہ میں اپنے اونٹ کو لے جا رہا تھا ، میرا پاؤں سانپ کے انڈے پر آ گیا ، جس کی وجہ سے میری بینائی ختم ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی دونوں آنکھوں میں پھونک ماری ، تو ان کی بینائی واپس آ گئی ، راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا ہے کہ وہ سوئی میں دھاگہ ڈال لیا کرتے تھے ، حالانکہ اُس وقت اُن کی عمر اسی سال تھی ، اور ان کی دونوں آنکھیں سفید ہی تھیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق باب میں ، سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو امام بزار کے حوالے سے اور امام طبرانی کے حوالے سے مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق باب میں ، سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو امام بزار کے حوالے سے اور امام طبرانی کے حوالے سے مذکور ہے ۔